Al-Baqarah 2:196
The Cow · Juz 2 · Page 30
وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذٗى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٞ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٖۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ١٩٦
And complete the ḥajj and ʿumrah for Allāh. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity1 or sacrifice.2 And when you are secure,3 then whoever performs ʿumrah [during the ḥajj months]4 followed by ḥajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during ḥajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Ḥarām. And fear Allāh and know that Allāh is severe in penalty.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 2:196
اور پورا کرو تم حج اور عمرہ اللہ کے لیے، پھر اگر روک دیے جاؤ تم تو جو میسر ہو قربانی سے، (وہ کر دو) اور نہ منڈاؤ اپنے سر، یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پر، پس جو کوئی ہو تم میں سے مریض یا ہو اس کو کوئی تکلیف اس کے سر میں تو فدیہ دینا ہے روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی سے، پھر جب امن میں ہو جاؤ تم تو جس نے فائدہ اٹھایا ساتھ عمرے کے، حج (کے احرام) تک تو جو میسر ہو قربانی سے(وہ کر دو) ، پھر جو شخص نہ پائے (قربانی) تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے، حج (کے دنوں) میں اور سات، جب واپس لوٹو تم، یہ دس ہیں پورے، یہ (حکم) اس شخص کے لیے ہے کہ نہ ہوں اس کے گھر والے رہنے والے مسجد حرام کے پاس، اور ڈرو تم اللہ سے اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(196)
[196]﴿ وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ ﴾ ’’اور پورا کرو حج اور عمرے کو‘‘ سے متعدد امور پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (۱) حج اور عمرے کا وجوب اور ان کی فرضیت (۲) حج اور عمرے کو ان ارکان و واجبات کے ساتھ پورا کرنا جن کی طرف رسول اللہﷺکا فعل اور آپ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے :’خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ‘ ’’اپنے مناسک حج مجھ سے اخذ کرو‘‘(سنن البيھقی:5؍125)(۳) اس آیت کریمہ سے ان علماء کی تائید ہوتی ہے جو عمرے کو واجب قرار دیتے ہیں۔ (۴) حج اور عمرہ کو، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہوں جب شروع کر دیا جائے تو ان کا اتمام واجب ہے۔ (۵) حج اور عمرے کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے اور یہ چیز حج اور عمرے کے لازمی افعال سے قدر زائد ہے۔ (۶) اس میں حج اور عمرے کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (۷) حج اور عمرے کا احرام باندھنے والا ان کی تکمیل کیے بغیر احرام نہ کھولے سوائے اس صورت حال کے جس کواللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور وہ ہے (کسی وجہ سے) محصور ہو جانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم روک دیے جاؤ‘‘ یعنی اگر تم کسی مرض یا راستہ بھول جانے یا دشمن کے روک لینے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے حج اور عمرہ کی تکمیل کے لیے بیت اللہ نہ پہنچ سکو تو فرمایا: ﴿ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡيِ ﴾ ’’تو جیسی قربانی میسر ہو۔‘‘ یعنی (جو قربانی میسر ہو،) ذبح کرو۔ یہ قربانی اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ یا ایک بکری ہے جسے مُحْصَر ذبح کرے گا۔ اس کے بعد وہ اپنا سر منڈوائے اور احرام کھول دے۔ جیسا کہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرامyنے حدیبیہ والے سال کیا تھا جب مشرکین مکہ نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا۔ اگر مُحْصَر کو قربانی نہ ملے تو اس کے بدلے دس روزے رکھے جیسا کہ تمتع کرنے والے کے لیے ضروری ہے اور اس کے بعد احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡيُ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’اور اپنے سروں کو نہ منڈواؤ، یہاں تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے‘‘ بالوں کو منڈوا کر یا کسی اور طریقے سے زائل کرنا احرام کے ممنوعات میں شمار ہوتا ہے۔ بال خواہ سر کے ہوں یا بدن کے کسی اور حصے کے، ان کو زائل کرنا منع ہے، کیونکہ احرام میں اصل مقصود بالوں کی پراگندگی اور ان کو زائل کر کے ان کی اصلاح کرنے کی ممانعت ہے اور وہ باقی بالوں میں بھی موجود ہے۔ بہت سے علماء نے زیب و زینت کے لیے ناخن ترشوانے کو بال منڈوانے پر قیاس کیا ہے اور مذکورہ تمام چیزیں اس وقت تک ممنوع ہیں جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے اور اس سے مراد قربانی کا دن ہے اور افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے کے بعد بال اتروائے جائیں جیسا کہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ تمتع کرنے والا جب اپنے ساتھ قربانی لے کر آیا ہو تو وہ قربانی کے دن سے قبل اپنے عمرے کا احرام نہ کھولے۔ پس تمتع کرنے والا جب عمرے کے طواف اور سعی سے فارغ ہو جائے تو حج کا احرام باندھ لے اور اپنے ساتھ قربانی لانے کی وجہ سے اس کے لیے احرام کھولنا جائز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے (حَلْق) ’’بال مونڈنے‘‘ سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ اس میں عاجزی، اللہ کے لیے خضوع اور انکساری ہے جو کہ بندے کے لیے عین مصلحت ہے اور اس میں اس کے لیے کوئی نقصان بھی نہیں۔ اگر سر میں کسی مرض یا زخم یا جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو اس کے لیے سر کو منڈوانا جائز ہے البتہ فدیہ کے طور پر تین روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا جانور ذبح کرنا جو قربانی کے لیے جائز ہو واجب ہے۔ ان میں سے جو کام چاہے اسے کرنے کا اختیار ہے۔ قربانی سب سے افضل ہے، اس کے بعد صدقہ اور پھر روزے۔ اسی طرح کے حالات میں اگر ناخن تراشنے، سر ڈھانپنے، سلا ہوا کپڑا پہننے یا خوشبو لگانے کی ضرورت لاحق ہو تو ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے، البتہ مذکورہ بالا فدیہ کی مانند فدیہ دینا واجب ہے۔ اس تمام صورت میں اصل مقصد آسودگی کے مظاہر سے دور رہنا ہے۔ پھر فرمایا:﴿ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ﴾ ’’پس جب تم امن میں ہو جاؤ‘‘ یعنی جب تم دشمن وغیرہ کی رکاوٹ کے بغیر بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہو ﴿ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ ﴾ ’’پس جو حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔‘‘ یعنی جو عمرہ کو حج کے ساتھ ملا دے اور عمرہ سے فارغ ہو کر اپنے تمتع سے فائدہ اٹھائے ﴿ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡيِ ﴾ ’’تو وہ جیسی قربانی میسر ہوکرے۔‘‘ یعنی اس پر واجب ہے کہ وہ قربانی دے جو میسر ہو اور وہ ایسا جانور ذبح کرے جو قربانی کے لیے جائز ہو۔ یہ قربانی، حج کی قربانی ہے جو ان دو عبادات کے مقابلے میں ہے جو اسے ایک ہی سفر میں حاصل ہوئیں، علاوہ ازیں یہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکرانہ ہے جو اسے عمرہ سے فراغت کے بعد اور مناسک حج شروع کرنے سے پہلے تمتع سے استفادہ کرنے کی صورت میں حاصل ہوئی۔ اور اسی کی مثل حج قران ہے، کیونکہ اس میں بھی (حج تمتع کی طرح) دو عبادات کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ مفرد حج کرنے والے شخص پر قربانی واجب نہیں۔ آیت کریمہ تمتع کے جواز بلکہ تمتع کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس پر بھی کہ حج کے مہینوں میں تمتع جائز ہے۔ ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ ﴾ ’’پس جو شخص نہ پائے‘‘ یعنی جس کے پاس قربانی یا اس کی قیمت موجود نہ ہو ﴿ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الۡحَجِّ ﴾ ’’تو تین روزے رکھنے ہیں حج کے دنوں میں‘‘ ان روزوں کا پہلا جواز تو یہ ہے کہ انھیں عمرہ کے احرام کے ساتھ ہی رکھا جائے اور ان کا آخری وقت یوم النحر کے بعد کے تین دن ہیں، رمی جمار اور منی میں شب باشی کے ایام، البتہ افضل یہ ہے کہ یہ روزے ساتویں، آٹھویں اور نویں ذوالحج کو رکھے جائیں۔ ﴿ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ﴾ ’’اور سات (روزے) اس وقت جب تم گھر لوٹو‘‘ یعنی جب تم اعمال حج سے فارغ ہو جاؤ تو ان روزوں کو مکہ مکرمہ میں رکھنا بھی جائز ہے، واپسی سفر کے دوران راستے میں اور گھر پہنچ کر بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تمتع کرنے والے پر قربانی کا واجب ہونا ﴿ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِي الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں‘‘ یعنی یہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو نمازقصر کرنے یا اس سے زیادہ فاصلے پر رہتا ہو یا اتنا دور رہتا ہو جسے عرف میں دور سمجھا جاتا ہو۔ اس شخص پر ایک ہی سفر میں دو عبادات کے ثواب کے حصول کی بنا پر قربانی واجب ہے۔ جو کوئی مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے پاس رہتا ہے، تو اس پر عدم موجب کی بنا پر قربانی واجب نہیں۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرو‘‘ یعنی اپنے تمام امور میں، اس کے اوامر کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اسی زمرے میں حج کے ان اوامر کی اطاعت اور ان ممنوعات سے اجتناب ہے جو کہ اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو سخت سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ یہی (خوف عذاب) تقویٰ کا موجب ہے کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ان تمام امور سے اجتناب کرتا ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ جیسے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ ایسے کام کرتا ہے جو ثواب کے موجب ہیں اور جو کوئی عذاب سے نہیں ڈرتا اور ثواب کی امید نہیں رکھتا وہ حرام میں گھس جاتا ہے اور فرائض کو چھوڑ دینے کی جرأت کا مرتکب ہوتا ہے۔
Page 30
2:191
وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡ وَأَخۡرِجُوهُم مِّنۡ حَيۡثُ أَخۡرَجُوكُمۡۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِيهِۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمۡ فَٱقۡتُلُوهُمۡۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٩١
And kill them [in battle] wherever you overtake them and expel them from wherever they have expelled you, and fitnah1 is worse than killing. And do not fight them at al-Masjid al-Ḥarām until they fight you there. But if they fight you, then kill them. Such is the recompense of the disbelievers.
1 translator’s note
- Among the meanings of fitnah are disbelief and its imposition on others, discord, dissension, civil strife, persecution, oppression, injustice, seduction, terrorism, trial and torment. ↩
2:192
فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٩٢
And if they cease, then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.
2:193
وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَلَا عُدۡوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩٣
Fight them until there is no [more] fitnah and [until] religion [i.e., worship] is [acknowledged to be] for Allāh. But if they cease, then there is to be no aggression [i.e., assault] except against the oppressors.
2:194
ٱلشَّهۡرُ ٱلۡحَرَامُ بِٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡحُرُمَٰتُ قِصَاصٞۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱعۡتَدُواْ عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٩٤
[Battle in] the sacred month is for [aggression committed in] the sacred month,1 and for [all] violations is legal retribution. So whoever has assaulted you, then assault him in the same way that he has assaulted you. And fear Allāh and know that Allāh is with those who fear Him.
1 translator’s note
- The sacred months are Dhul-Qaʿdah, Dhul-Ḥijjah, Muḥarram and Rajab. ↩
2:195
وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ وَأَحۡسِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٩٥
And spend in the way of Allāh and do not throw [yourselves] with your [own] hands into destruction [by refraining]. And do good; indeed, Allāh loves the doers of good.
2:196
وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذٗى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٞ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٖۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ١٩٦
And complete the ḥajj and ʿumrah for Allāh. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity1 or sacrifice.2 And when you are secure,3 then whoever performs ʿumrah [during the ḥajj months]4 followed by ḥajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during ḥajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Ḥarām. And fear Allāh and know that Allāh is severe in penalty.