Al-BaqarahJuz 2 · Page 39

Al-Baqarah 2:244

The Cow · Juz 2 · Page 39

وَقَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٤٤

And fight in the cause of Allāh and know that Allāh is Hearing and Knowing.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:244–245

اور لڑو تم اللہ کی راہ میں، اور جان لو! بے شک اللہ سننے والا، خوب جاننے والا ہے(244) کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ ، پھر اللہ بڑھا دے وہ (مال) اس کے لیے کئی کئی گنا؟ اور اللہ ہی تنگی کرتا اور فراخی کرتا ہےاور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(245)

[245,244] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننا جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمھارا مقصود ہونا چاہیے اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لیے اس حکم کی تمہید کے طورپر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ موت اس طرح بھی آسکتی ہے، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمھارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اور چونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اللہ نے اس راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور ترغیب دی، اور اسے قرض فرمایا، چنانچہ فرمایا ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟‘‘ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ’’اچھا‘‘ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصودمحض رضائے الٰہی ہو۔ ﴿ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً ﴾ پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔‘‘ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ مفلس ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ﴾ ’’اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔‘‘ یعنی جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے، اورجس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ معاملات صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام امور کا دارومدار اسی کی ذات پر ہے۔ بچا بچا کر رکھنے سے رزق بڑھتا نہیں اور خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں جو خرچ کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ اپنی پیش کی ہوئی اشیا پوری پوری، بلکہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ کئی گنا وصول کرلیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کے مقابلے میں اسباب فائدہ نہیں دیتے۔ خصوصاً وہ اسباب جن سے اللہ کے احکامات پر عمل ترک ہوتا ہو، نیز ان میں اللہ کی عظیم نشانی کا ذکر ہے کہ اسی جہان میں مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیا۔ ان میں اللہ کی راہ میں جہاد و قتال اور خرچ کرنے کا حکم ہے یہاں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جن سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہوتی ہے، مثلاً اسے قرض قرار دینا، اس کا بہت زیادہ بڑھ جانا، رزق کی کمی بیشی اللہ کے ہاتھ میں ہونا اور بندوں کا اسی کی طرف لوٹ کے جانا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 39

Al-BaqarahJuz 2 · Page 39

2:238

حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ ٢٣٨

Maintain with care the [obligatory] prayers and [in particular] the middle [i.e., ʿaṣr] prayer and stand before Allāh, devoutly obedient.

2:239

فَإِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا أَوۡ رُكۡبَانٗاۖ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمۡ تَكُونُواْ تَعۡلَمُونَ ٢٣٩

And if you fear [an enemy, then pray] on foot or riding. But when you are secure, then remember Allāh [in prayer], as He has taught you that which you did not [previously] know.

2:240

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا وَصِيَّةٗ لِّأَزۡوَٰجِهِم مَّتَٰعًا إِلَى ٱلۡحَوۡلِ غَيۡرَ إِخۡرَاجٖۚ فَإِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِي مَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعۡرُوفٖۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٞ ٢٤٠

And those who are taken in death among you and leave wives behind - for their wives is a bequest: maintenance for one year without turning [them] out. But if they leave [of their own accord], then there is no blame upon you for what they do with themselves in an acceptable way.1 And Allāh is Exalted in Might and Wise.

1 translator’s note
  1. This directive was abrogated by those later revealed in 2:234 and 4:12. ↩

2:241

وَلِلۡمُطَلَّقَٰتِ مَتَٰعُۢ بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُتَّقِينَ ٢٤١

And for divorced women is a provision according to what is acceptable - a duty upon the righteous.

2:242

كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٢٤٢

Thus does Allāh make clear to you His verses [i.e., laws] that you might use reason.

2:243

۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَهُمۡ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحۡيَٰهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٢٤٣

Have you not considered those who left their homes in many thousands, fearing death? Allāh said to them, "Die"; then He restored them to life. And Allāh is the possessor of bounty for the people, but most of the people do not show gratitude.

2:244

وَقَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٤٤

And fight in the cause of Allāh and know that Allāh is Hearing and Knowing.

2:245

مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضۡعَافٗا كَثِيرَةٗۚ وَٱللَّهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٢٤٥

Who is it that would loan Allāh a goodly loan so He may multiply it for him many times over? And it is Allāh who withholds and grants abundance, and to Him you will be returned.

As-Sa'diTafsir · 2:244

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском