Al-BaqarahJuz 3 · Page 42

Al-Baqarah 2:255

The Cow · Juz 3 · Page 42

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ ٢٥٥

Allāh - there is no deity except Him, the Ever-Living,1 the Self-Sustaining.2 Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them,3 and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursī4 extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High,5 the Most Great.6

6 translator’s notes
  1. Whose life is perfect, complete and eternal, without beginning or end, and through whom all created life originated and continues.

    [99] Dependent on none for His existence while being the sustainer and administrator of all created existence.

    [100] Allāh's knowledge encompasses every aspect of His creations in the past, present and future.

    [101] Chair or footstool. It is not to be confused with al-ʿArsh (the Throne) , which is infinitely higher and greater than al-Kursī.

    [102] Above all of His creations and superior to them in essence, rank and position.

    [103] Whose greatness is unlimited, beyond description or imagination.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩
  5. ↩
  6. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:255

اللہ، نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے، زندہ سب کو سنبھالنے والا، نہیں آتی اس کو اونگھ اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو شفاعت کرے اس کے پاس؟ سوائے اس کی اجازت کے، وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے،اور وہ نہیں احاطہ کر سکتے کسی چیز کا اس کے علم میں سے، مگر ساتھ اس چیز کے جو ووہ چاہے، گھیر لیا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں گراں اس پر حفاظت ان دونوں کی، اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے(255)

[255] یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں، اس لیے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ ہی معبود برحق ہے۔‘‘ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لیے ہونی چاہیے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر ایک کی عبادت باطل ہے، کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز مخلوق اور ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہے۔ لہٰذا کسی قسم کی کسی عبادت کا حق نہیں رکھتی۔‘‘ ﴿ اَلۡحَيُّ الۡقَيُّوۡمُ﴾ وہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔‘‘ ان دو اسمائے حسنیٰ (اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) میں دیگر تمام صفات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ خواہ وہ دلالت مطابقت سے ہو یا دلالت تضمن سے یا دلالت لزوم سے۔ ’’ اَلْحَیُّ ‘‘ سے مراد وہ ہستی ہے جسے کامل حیات حاصل ہو، اور یہ مستلزم ہے تمام صفات ذاتیہ کو، مثلاً سننا، دیکھنا، جاننا قدرت رکھنا وغیرہ۔ ’’القیوم‘‘ سے مراد وہ ذات ہے جو خود قائم ہو اور دوسروں کا قیام اس سے ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کے وہ تمام افعال شامل ہوجاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ متصف ہے، یعنی وہ جو چاہے کرسکتا ہے، استواء، نزول، کلام، قول، پیدا کرنا، رزق دینا، موت دینا، زندہ کرنا اور دیگر انواع کی تدبیر سب اس کے قیوم ہونے میں شامل ہیں، اس لیے بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہی وہ اسم اعظم ہے جس کے ذریعے کی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس کی حیات اور قیومیت کے تمام ہونے کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ ﴿ لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌؔ﴾ ’’اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔‘‘ ﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں۔‘‘ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک ہیں۔ وہ خالق، رازق اور مدبر ہے۔ باقی سب مخلوق، مرزدق اور مُدَبَّر۔ کسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے معاملات میں سے نہ اپنے لیے ذرہ بھر اختیار ہے نہ دوسروں کے لیے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟‘‘ یعنی کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ تو شفاعت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن وہ جب کسی بندے پر رحم کرنا چاہے گا، تو اپنے جس بندے کی عزت افزائی کرنا چاہے گا، اسے اس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے دے گا۔ اجازت ملنے سے پہلے کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا:﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔‘‘ یعنی ان کے گزشتہ اور آئندہ معاملات سے باخبر ہے۔ یعنی وہ تمام معاملات کی تمام تفصیلات جانتا ہے، یعنی اگلے پچھلے، ظاہر، پوشیدہ، غیب اور حاضر سب جانتا ہے۔ بندوں کو ان میں کوئی اختیار حاصل نہیں، نہ وہ ذرہ برابر معلومات رکھتے ہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتا دے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَيۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ١ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیزکا احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اس سے اس کی عظمت کا کمال اور سلطنت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ جب کرسی کی یہ شان ہے کہ آسمان و زمین کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ ان سے بہت بڑی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کی سب سے بڑی مخلوق نہیں بلکہ اللہ کی اس سے بڑی مخلوق بھی موجود ہے۔ یعنی عرش اور ایسی مخلوقات جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ان مخلوقات کی عظمت کا تصور کرنے سے بھی عقلیں عاجز ہیں تو ان کے خالق کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ جس نے انھیں وجود بخشا، اور ان میں بے شمار حکمتیں اور اسرار رکھ دیے۔ جس نے زمین و آسمان کو اپنی جگہ چھوڑنے سے روک رکھا ہے اور وہ اس سے تھکتا نہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَلَا يَـــُٔوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا﴾ ’’اور نہ وہ ان دونوں کی حفاظت سے تھکتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے لیے ان کی حفاظت دشوار نہیں ﴿وَهُوَ﴾ ’’اور وہ‘‘ اپنی ذات کے لحاظ سے ﴿ الۡعَلِيُّ﴾ ’’بہت بلند‘‘ ہے۔ او رعرش عظیم پر موجود ہے۔ وہ اس لیے بھی بلند ہے کہ تمام مخلوقات اس کے زیر نگیں ہیں، اس لیے بھی بلند شان والا ہے کہ اس کی صفات کامل ہیں۔ اور ﴿ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’بہت بڑا ہے۔‘‘ جس کی عظمت کے سامنے کسی بڑے سے بڑے جبار، متکبر اور زبردست بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس آیت میں توحید الوہیت بھی ہے، توحید ربوبیت بھی اور توحید اسماء و صفات بھی۔ اس میں اس کی بادشاہت کا محیط ہونا بھی مذکور ہے اور علم کا بھی، اس کی سلطنت کی وسعت بھی ہے اس کا جلال، مجد اور اس کی عظمت و کبریائی کابھی بیان ہے۔ لہٰذا یہ آیت اکیلی ہی اللہ کے تمام اسماء و صفات اور تمام اسمائے حسنیٰ کے معانی کی جامع ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے:

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 42

Al-BaqarahJuz 3 · Page 42

2:253

۞ تِلۡكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۘ مِّنۡهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُۖ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجَٰتٖۚ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخۡتَلَفُواْ فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ وَمِنۡهُم مَّن كَفَرَۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلُواْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ ٢٥٣

Those messengers - some of them We caused to exceed others. Among them were those to whom Allāh spoke, and He raised some of them in degree. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs, and We supported him with the Pure Spirit [i.e., Gabriel]. If Allāh had willed, those [generations] succeeding them would not have fought each other after the clear proofs had come to them. But they differed, and some of them believed and some of them disbelieved. And if Allāh had willed, they would not have fought each other, but Allāh does what He intends.

2:254

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خُلَّةٞ وَلَا شَفَٰعَةٞۗ وَٱلۡكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٥٤

O you who have believed, spend from that which We have provided for you before there comes a Day in which there is no exchange [i.e., ransom] and no friendship and no intercession. And the disbelievers - they are the wrongdoers.

2:255

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ ٢٥٥

Allāh - there is no deity except Him, the Ever-Living,1 the Self-Sustaining.2 Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them,3 and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursī4 extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High,5 the Most Great.6

6 translator’s notes
  1. Whose life is perfect, complete and eternal, without beginning or end, and through whom all created life originated and continues.

    [99] Dependent on none for His existence while being the sustainer and administrator of all created existence.

    [100] Allāh's knowledge encompasses every aspect of His creations in the past, present and future.

    [101] Chair or footstool. It is not to be confused with al-ʿArsh (the Throne) , which is infinitely higher and greater than al-Kursī.

    [102] Above all of His creations and superior to them in essence, rank and position.

    [103] Whose greatness is unlimited, beyond description or imagination.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩
  5. ↩
  6. ↩

2:256

لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٥٦

There shall be no compulsion in [acceptance of] the religion. The right course has become distinct from the wrong. So whoever disbelieves in ṭāghūt1 and believes in Allāh has grasped the most trustworthy handhold with no break in it. And Allāh is Hearing and Knowing.

1 translator’s note
  1. False objects of worship, such as idols, heavenly bodies, spirits, human beings, etc. ↩
As-Sa'diTafsir · 2:255

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском