Al-Baqarah 2:268
The Cow · Juz 3 · Page 45
ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغۡفِرَةٗ مِّنۡهُ وَفَضۡلٗاۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٢٦٨
Satan threatens you with poverty and orders you to immorality, while Allāh promises you forgiveness from Him and bounty. And Allāh is all-Encompassing and Knowing.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 2:267–268
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)
[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکاۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جوبڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لیے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا ہے۔ (۷) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکاۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔
Page 45
2:265
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۭ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٞ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٞ فَطَلّٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٢٦٥
And the example of those who spend their wealth seeking means to the approval of Allāh and assuring [reward for] themselves is like a garden on high ground which is hit by a downpour - so it yields its fruits in double. And [even] if it is not hit by a downpour, then a drizzle [is sufficient]. And Allāh, of what you do, is Seeing.
2:266
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمۡ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٞ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَابٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلۡكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٞ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعۡصَارٞ فِيهِ نَارٞ فَٱحۡتَرَقَتۡۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ ٢٦٦
Would one of you like to have a garden of palm trees and grapevines underneath which rivers flow in which he has from every fruit? But he is afflicted with old age and has weak [i.e., immature] offspring, and it is hit by a whirlwind containing fire and is burned. Thus does Allāh make clear to you [His] verses that you might give thought.
2:267
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ وَلَا تَيَمَّمُواْ ٱلۡخَبِيثَ مِنۡهُ تُنفِقُونَ وَلَسۡتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغۡمِضُواْ فِيهِۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ٢٦٧
O you who have believed, spend from the good things which you have earned and from that which We have produced for you from the earth. And do not aim toward the defective therefrom, spending [from that] while you would not take it [yourself] except with closed eyes. And know that Allāh is Free of need and Praiseworthy.
2:268
ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغۡفِرَةٗ مِّنۡهُ وَفَضۡلٗاۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٢٦٨
Satan threatens you with poverty and orders you to immorality, while Allāh promises you forgiveness from Him and bounty. And Allāh is all-Encompassing and Knowing.
2:269
يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٢٦٩
He gives wisdom1 to whom He wills, and whoever has been given wisdom has certainly been given much good. And none will remember except those of understanding.
1 translator’s note
- The knowledge and understanding of the religion and of the Qur’ān. ↩