Al-BaqarahJuz 3 · Page 47

Al-Baqarah 2:277

The Cow · Juz 3 · Page 47

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٧

Indeed, those who believe and do righteous deeds and establish prayer and give zakāh will have their reward with their Lord, and there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:275–281

وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)

[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔

[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔

[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔

[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 47

Al-BaqarahJuz 3 · Page 47

2:275

ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٧٥

Those who consume interest1 cannot stand [on the Day of Resurrection] except as one stands who is being beaten by Satan into insanity. That is because they say, "Trade is [just] like interest." But Allāh has permitted trade and has forbidden interest. So whoever has received an admonition from his Lord and desists may have what is past, and his affair rests with Allāh. But whoever returns [to dealing in interest or usury] - those are the companions of the Fire; they will abide eternally therein.

1 translator’s note
  1. Included is that given on commercial as well as consumer loans. ↩

2:276

يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ٢٧٦

Allāh destroys interest and gives increase for charities. And Allāh does not like every sinning disbeliever.

2:277

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٧

Indeed, those who believe and do righteous deeds and establish prayer and give zakāh will have their reward with their Lord, and there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

2:278

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨

O you who have believed, fear Allāh and give up what remains [due to you] of interest, if you should be believers.

2:279

فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ ٢٧٩

And if you do not, then be informed of a war [against you] from Allāh and His Messenger. But if you repent, you may have your principal - [thus] you do no wrong, nor are you wronged.

2:280

وَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٖۚ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٢٨٠

And if someone is in hardship, then [let there be] postponement until [a time of] ease. But if you give [from your right as] charity, then it is better for you, if you only knew.

2:281

وَٱتَّقُواْ يَوۡمٗا تُرۡجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٢٨١

And fear a Day when you will be returned to Allāh. Then every soul will be compensated for what it earned, and they will not be wronged [i.e., treated unjustly].

As-Sa'diTafsir · 2:277

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском