Al-BaqarahJuz 1 · Page 11

Al-Baqarah 2:76

The Cow · Juz 1 · Page 11

وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ قَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٧٦

And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allāh has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:75–78

کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)

[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔

[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔

[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔

[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 11

Al-BaqarahJuz 1 · Page 11

2:70

قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ ٱلۡبَقَرَ تَشَٰبَهَ عَلَيۡنَا وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهۡتَدُونَ ٧٠

They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is. Indeed, [all] cows look alike to us. And indeed we, if Allāh wills, will be guided."

2:71

قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٞ لَّا ذَلُولٞ تُثِيرُ ٱلۡأَرۡضَ وَلَا تَسۡقِي ٱلۡحَرۡثَ مُسَلَّمَةٞ لَّا شِيَةَ فِيهَاۚ قَالُواْ ٱلۡـَٰٔنَ جِئۡتَ بِٱلۡحَقِّۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُواْ يَفۡعَلُونَ ٧١

He said, "He says, 'It is a cow neither trained to plow the earth nor to irrigate the field, one free from fault with no spot upon her.'" They said, "Now you have come with the truth." So they slaughtered her, but they could hardly do it.

2:72

وَإِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسٗا فَٱدَّٰرَٰءۡتُمۡ فِيهَاۖ وَٱللَّهُ مُخۡرِجٞ مَّا كُنتُمۡ تَكۡتُمُونَ ٧٢

And [recall] when you slew a man and disputed1 over it, but Allāh was to bring out that which you were concealing.

1 translator’s note
  1. i.e., exchanged accusations and denials. ↩

2:73

فَقُلۡنَا ٱضۡرِبُوهُ بِبَعۡضِهَاۚ كَذَٰلِكَ يُحۡيِ ٱللَّهُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٧٣

So We said, "Strike him [i.e., the slain man] with part of it."1 Thus does Allāh bring the dead to life, and He shows you His signs that you might reason.

1 translator’s note
  1. i.e., the cow. Thereupon, Allāh restored life to the man, who informed them of his murderer. ↩

2:74

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَٱلۡحِجَارَةِ أَوۡ أَشَدُّ قَسۡوَةٗۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ ٱلۡمَآءُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٧٤

Then your hearts became hardened after that, being like stones or even harder. For indeed, there are stones from which rivers burst forth, and there are some of them that split open and water comes out, and there are some of them that fall down for fear of Allāh. And Allāh is not unaware of what you do.

2:75

۞ أَفَتَطۡمَعُونَ أَن يُؤۡمِنُواْ لَكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٥

Do you covet [the hope, O believers], that they would believe for you while a party of them used to hear the words of Allāh and then distort it [i.e., the Torah] after they had understood it while they were knowing?

2:76

وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ قَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٧٦

And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allāh has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?

As-Sa'diTafsir · 2:76

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском