Al-BaqarahJuz 1 · Page 14

Al-Baqarah 2:93

The Cow · Juz 1 · Page 14

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱسۡمَعُواْۖ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَأُشۡرِبُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡعِجۡلَ بِكُفۡرِهِمۡۚ قُلۡ بِئۡسَمَا يَأۡمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩٣

And [recall] when We took your covenant and raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and listen." They said [instead], "We hear and disobey." And their hearts absorbed [the worship of] the calf because of their disbelief. Say, "How wretched is that which your faith enjoins upon you, if you should be believers."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:91–93

اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں وہ اس کے ماسوا کا، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، کہہ دیجیے! ، پھر کیوں قتل کرتے رہے تم اللہ کے نبیوں کو پہلے اس سے، اگر تھے تم مومن(91)اور تحقیق آئے تمھارے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں (معجزات) کے، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے اور تم (ہی) ہو ظالم(92) اور (یاد کرو) جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے، تم پر طور(پہاڑ اور کہا) پکڑو تم جو دیا ہم نے تمھیں ساتھ قوت کے اور سنو! کہا انھوں نے سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نےاور پلا دیے گئے وہ اپنے دلوں میں (محبت) بچھڑے کی بہ سبب ان کے کفر کے، کہہ دیجیے! بری ہے وہ چیز کہ حکم کرتا ہے تمھیں اس کا تمھارا ایمان اگر ہو تم مومن(93)

[91] جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، یعنی قرآن کریم پر تو انھوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا:﴿نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر۔ اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کر دینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ١ۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًاۙ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾(النساء : 4؍150۔151) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں بلاشبہ وہی کافر ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ (قرآن) حق ہے‘‘ پس جب یہ قرآن اوامر و نواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لہٰذا یہ معلوم ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ﴾ ’’ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے‘‘ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جبکہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہو جاتی ہے جس کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہو سکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو)﴿ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۢۡبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کر دیتے رہے؟‘‘

[92]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ یعنی ’’تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ‘‘ ﴿ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے‘‘ اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔

[93]﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَ١ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو‘‘ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘ ﴿ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو‘‘ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰuکوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 14

Al-BaqarahJuz 1 · Page 14

2:89

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتَٰبٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ وَكَانُواْ مِن قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُونَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِۦۚ فَلَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٨٩

And when there came to them a Book [i.e., the Qur’ān] from Allāh confirming that which was with them - although before they used to pray for victory against those who disbelieved - but [then] when there came to them that which they recognized, they disbelieved in it; so the curse of Allāh will be upon the disbelievers.

2:90

بِئۡسَمَا ٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡ أَن يَكۡفُرُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغۡيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٩٠

How wretched is that for which they sold themselves - that they would disbelieve in what Allāh has revealed through [their] outrage that Allāh would send down His favor upon whom He wills from among His servants. So they returned having [earned] wrath upon wrath. And for the disbelievers is a humiliating punishment.

2:91

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ ءَامِنُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ نُؤۡمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَهُمۡۗ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبۡلُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩١

And when it is said to them, "Believe in what Allāh has revealed," they say, "We believe [only] in what was revealed to us." And they disbelieve in what came after it, while it is the truth confirming that which is with them. Say, "Then why did you kill the prophets of Allāh before, if you are [indeed] believers?"

2:92

۞ وَلَقَدۡ جَآءَكُم مُّوسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ ٱتَّخَذۡتُمُ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَنتُمۡ ظَٰلِمُونَ ٩٢

And Moses had certainly brought you clear proofs. Then you took the calf [in worship] after that, while you were wrongdoers.

2:93

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱسۡمَعُواْۖ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَأُشۡرِبُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡعِجۡلَ بِكُفۡرِهِمۡۚ قُلۡ بِئۡسَمَا يَأۡمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩٣

And [recall] when We took your covenant and raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and listen." They said [instead], "We hear and disobey." And their hearts absorbed [the worship of] the calf because of their disbelief. Say, "How wretched is that which your faith enjoins upon you, if you should be believers."

As-Sa'diTafsir · 2:93

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском