TahaJuz 16 · Page 314

Taha 20:45

Ta-Ha · Juz 16 · Page 314

قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفۡرُطَ عَلَيۡنَآ أَوۡ أَن يَطۡغَىٰ ٤٥

They said, "Our Lord, indeed we are afraid that he will hasten [punishment] against us or that he will transgress."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 20:42–46

جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔

[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔

[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔

[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔

[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 314

TahaJuz 16 · Page 314

20:38

إِذۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ ٣٨

When We inspired to your mother what We inspired,

20:39

أَنِ ٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلتَّابُوتِ فَٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ ٱلۡيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأۡخُذۡهُ عَدُوّٞ لِّي وَعَدُوّٞ لَّهُۥۚ وَأَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةٗ مِّنِّي وَلِتُصۡنَعَ عَلَىٰ عَيۡنِيٓ ٣٩

[Saying], 'Cast him into the chest and cast it into the river, and the river will throw it onto the bank; there will take him an enemy to Me and an enemy to him.' And I bestowed upon you love from Me1 that you would be brought up under My eye [i.e., observation and care].

1 translator’s note
  1. Allāh put love of Moses into the hearts of the people. ↩

20:40

إِذۡ تَمۡشِيٓ أُخۡتُكَ فَتَقُولُ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ مَن يَكۡفُلُهُۥۖ فَرَجَعۡنَٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَۚ وَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا فَنَجَّيۡنَٰكَ مِنَ ٱلۡغَمِّ وَفَتَنَّٰكَ فُتُونٗاۚ فَلَبِثۡتَ سِنِينَ فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ ثُمَّ جِئۡتَ عَلَىٰ قَدَرٖ يَٰمُوسَىٰ ٤٠

[And We favored you] when your sister went and said, 'Shall I direct you to someone who will be responsible for him?' So We restored you to your mother that she might be content and not grieve. And you killed someone,1 but We saved you from retaliation and tried you with a [severe] trial. And you remained [some] years among the people of Madyan. Then you came [here] at the decreed time, O Moses.

1 translator’s note
  1. The Copt who died after being struck by Moses. ↩

20:41

وَٱصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِي ٤١

And I produced you for Myself.1

1 translator’s note
  1. Allāh had already selected Moses and made him strong in body and character according to the requirements of his mission. ↩

20:42

ٱذۡهَبۡ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكۡرِي ٤٢

Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.

20:43

ٱذۡهَبَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ٤٣

Go, both of you, to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.

20:44

فَقُولَا لَهُۥ قَوۡلٗا لَّيِّنٗا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوۡ يَخۡشَىٰ ٤٤

And speak to him with gentle speech that perhaps he may be reminded or fear [Allāh]."

20:45

قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفۡرُطَ عَلَيۡنَآ أَوۡ أَن يَطۡغَىٰ ٤٥

They said, "Our Lord, indeed we are afraid that he will hasten [punishment] against us or that he will transgress."

20:46

قَالَ لَا تَخَافَآۖ إِنَّنِي مَعَكُمَآ أَسۡمَعُ وَأَرَىٰ ٤٦

[Allāh] said, "Fear not. Indeed, I am with you both; I hear and I see.

20:47

فَأۡتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبۡهُمۡۖ قَدۡ جِئۡنَٰكَ بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكَۖ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلۡهُدَىٰٓ ٤٧

So go to him and say, 'Indeed, we are messengers of your Lord, so send with us the Children of Israel and do not torment them. We have come to you with a sign from your Lord. And peace1 will be upon he who follows the guidance.

1 translator’s note
  1. i.e., safety and security from Allāh's punishment. ↩

20:48

إِنَّا قَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡنَآ أَنَّ ٱلۡعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ٤٨

Indeed, it has been revealed to us that the punishment will be upon whoever denies and turns away.'"

20:49

قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَٰمُوسَىٰ ٤٩

[Pharaoh] said, "So who is the Lord of you two, O Moses?"

20:50

قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِيٓ أَعۡطَىٰ كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ ٥٠

He said, "Our Lord is He who gave each thing its form and then guided [it]."

20:51

قَالَ فَمَا بَالُ ٱلۡقُرُونِ ٱلۡأُولَىٰ ٥١

[Pharaoh] said, "Then what is the case of the former generations?"

As-Sa'diTafsir · 20:45

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском