Taha 20:87
Ta-Ha · Juz 16 · Page 317
قَالُواْ مَآ أَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلۡنَآ أَوۡزَارٗا مِّن زِينَةِ ٱلۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلۡقَى ٱلسَّامِرِيُّ ٨٧
They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Sāmirī throw."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 20:87–89
انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)
[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔
[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔
Page 317
20:77
وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ ٧٧
And We had inspired to Moses, "Travel by night with My servants and strike for them a dry path through the sea; you will not fear being overtaken [by Pharaoh] nor be afraid [of drowning]."
20:78
فَأَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلۡيَمِّ مَا غَشِيَهُمۡ ٧٨
So Pharaoh pursued them with his soldiers, and there covered them from the sea that which covered them,1
1 translator’s note
- i.e., not only the water but that which only Allāh knows - terror, pain, regret, etc. ↩
20:79
وَأَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ ٧٩
And Pharaoh led his people astray and did not guide [them].
20:80
يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ قَدۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰ ٨٠
O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you1 at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,
1 translator’s note
- i.e., with your prophet, to receive the scripture for you. ↩
20:81
كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَلَا تَطۡغَوۡاْ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبِيۖ وَمَن يَحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِي فَقَدۡ هَوَىٰ ٨١
[Saying], "Eat from the good things with which We have provided you and do not transgress [or oppress others] therein, lest My anger should descend upon you. And he upon whom My anger descends has certainly fallen [i.e., perished]."
20:82
وَإِنِّي لَغَفَّارٞ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا ثُمَّ ٱهۡتَدَىٰ ٨٢
But indeed, I am the Perpetual Forgiver of whoever repents and believes and does righteousness and then continues in guidance.
20:83
۞ وَمَآ أَعۡجَلَكَ عَن قَوۡمِكَ يَٰمُوسَىٰ ٨٣
[Allāh said], "And what made you hasten from your people, O Moses?"
20:84
قَالَ هُمۡ أُوْلَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِي وَعَجِلۡتُ إِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضَىٰ ٨٤
He said, "They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased."
20:85
قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ ٨٥
[Allāh] said, "But indeed, We have tried your people after you [departed], and the Sāmirī1 has led them astray."
1 translator’s note
- Translated as "the Samaritan" (from Samaria), a hypocrite among them who led the Children of Israel into idol-worship. ↩
20:86
فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًاۚ أَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡعَهۡدُ أَمۡ أَرَدتُّمۡ أَن يَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُم مَّوۡعِدِي ٨٦
So Moses returned to his people, angry and grieved.1 He said, "O my people, did your Lord not make you a good promise?2 Then, was the time [of its fulfillment] too long for you, or did you wish that wrath from your Lord descend upon you, so you broke your promise [of obedience] to me?"
20:87
قَالُواْ مَآ أَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلۡنَآ أَوۡزَارٗا مِّن زِينَةِ ٱلۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلۡقَى ٱلسَّامِرِيُّ ٨٧
They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Sāmirī throw."