Al-AnbyaJuz 17 · Page 331

Al-Anbya 21:112

The Prophets · Juz 17 · Page 331

قَٰلَ رَبِّ ٱحۡكُم بِٱلۡحَقِّۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١١٢

[The Prophet (ﷺ)] has said, "My Lord, judge [between us] in truth. And our Lord is the Most Merciful, the one whose help is sought against that which you describe."1

1 translator’s note
  1. i.e., their lies and disbelief. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 21:106–112

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112)

[106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔

[107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

[108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔

[110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔

[111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔

[112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 331

Al-AnbyaJuz 17 · Page 331

21:102

لَا يَسۡمَعُونَ حَسِيسَهَاۖ وَهُمۡ فِي مَا ٱشۡتَهَتۡ أَنفُسُهُمۡ خَٰلِدُونَ ١٠٢

They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.

21:103

لَا يَحۡزُنُهُمُ ٱلۡفَزَعُ ٱلۡأَكۡبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ هَٰذَا يَوۡمُكُمُ ٱلَّذِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ١٠٣

They will not be grieved by the greatest terror,1 and the angels will meet them, [saying], "This is your Day which you have been promised" -

1 translator’s note
  1. The events of the Last Hour or of the Resurrection. ↩

21:104

يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ ١٠٤

The Day when We will fold the heaven like the folding of a [written] sheet for the records. As We began the first creation, We will repeat it. [That is] a promise binding upon Us. Indeed, We will do it.1

1 translator’s note
  1. More literally, "Indeed, We are ever doers" of what We will. ↩

21:105

وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ ١٠٥

And We have already written in the book [of Psalms]1 after the [previous] mention2 that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.

2 translator’s notes
  1. Az-Zabūr can also mean "scriptures" in general.

    [910] i.e., the Torah. The "mention" may also refer to the original inscription with Allāh, i.e., the Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ).

    ↩
  2. ↩

21:106

إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَٰغٗا لِّقَوۡمٍ عَٰبِدِينَ ١٠٦

Indeed, in this [Qur’ān] is notification for a worshipping people.

21:107

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٧

And We have not sent you, [O Muḥammad], except as a mercy to the worlds.

21:108

قُلۡ إِنَّمَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٠٨

Say, "It is only revealed to me that your god is but one God; so will you be Muslims [in submission to Him]?"

21:109

فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ ءَاذَنتُكُمۡ عَلَىٰ سَوَآءٖۖ وَإِنۡ أَدۡرِيٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٞ مَّا تُوعَدُونَ ١٠٩

But if they turn away, then say, "I have announced to [all of] you equally.1 And I know not whether near or far is that which you are promised.

1 translator’s note
  1. The Prophet (ﷺ) made this message known to all people, not concealing any of it from anyone or preferring any group over another. ↩

21:110

إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُونَ ١١٠

Indeed, He knows what is declared of speech, and He knows what you conceal.

21:111

وَإِنۡ أَدۡرِي لَعَلَّهُۥ فِتۡنَةٞ لَّكُمۡ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ ١١١

And I know not; perhaps it1 is a trial for you and enjoyment for a time."

1 translator’s note
  1. The postponement of punishment. ↩

21:112

قَٰلَ رَبِّ ٱحۡكُم بِٱلۡحَقِّۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١١٢

[The Prophet (ﷺ)] has said, "My Lord, judge [between us] in truth. And our Lord is the Most Merciful, the one whose help is sought against that which you describe."1

1 translator’s note
  1. i.e., their lies and disbelief. ↩

Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy

As-Sa'diTafsir · 21:112

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском