Al-Anbya 21:68
The Prophets · Juz 17 · Page 327
قَالُواْ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓاْ ءَالِهَتَكُمۡ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ ٦٨
They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 21:51–73
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
Page 327
21:58
فَجَعَلَهُمۡ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرٗا لَّهُمۡ لَعَلَّهُمۡ إِلَيۡهِ يَرۡجِعُونَ ٥٨
So he made them into fragments, except a large one among them, that they might return to it [and question].
21:59
قَالُواْ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٩
They said, "Who has done this to our gods? Indeed, he is of the wrongdoers."
21:60
قَالُواْ سَمِعۡنَا فَتٗى يَذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبۡرَٰهِيمُ ٦٠
They said, "We heard a young man mention them who is called Abraham."
21:61
قَالُواْ فَأۡتُواْ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعۡيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُونَ ٦١
They said, "Then bring him before the eyes of the people that they may testify."1
1 translator’s note
- To what they had heard him say. It may also mean "...that they may witness [what will be done to him as punishment]." ↩
21:62
قَالُوٓاْ ءَأَنتَ فَعَلۡتَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَا يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُ ٦٢
They said, "Have you done this to our gods, O Abraham?"
21:63
قَالَ بَلۡ فَعَلَهُۥ كَبِيرُهُمۡ هَٰذَا فَسۡـَٔلُوهُمۡ إِن كَانُواْ يَنطِقُونَ ٦٣
He said, "Rather, this - the largest of them - did it, so ask them, if they should [be able to] speak."
21:64
فَرَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ فَقَالُوٓاْ إِنَّكُمۡ أَنتُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٦٤
So they returned to [blaming] themselves and said [to each other], "Indeed, you are the wrongdoers."
21:65
ثُمَّ نُكِسُواْ عَلَىٰ رُءُوسِهِمۡ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هَٰٓؤُلَآءِ يَنطِقُونَ ٦٥
Then they reversed themselves,1 [saying], "You have already known that these do not speak!"
1 translator’s note
- After first admitting their error, they were seized by pride and obstinacy. ↩
21:66
قَالَ أَفَتَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يَضُرُّكُمۡ ٦٦
He said, "Then do you worship instead of Allāh that which does not benefit you at all or harm you?
21:67
أُفّٖ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٦٧
Uff1 to you and to what you worship instead of Allāh. Then will you not use reason?"
1 translator’s note
- An exclamation of anger and displeasure. ↩
21:68
قَالُواْ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓاْ ءَالِهَتَكُمۡ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ ٦٨
They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."
21:69
قُلۡنَا يَٰنَارُ كُونِي بَرۡدٗا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ ٦٩
We [i.e., Allāh] said, "O fire, be coolness and safety upon Abraham."
21:70
وَأَرَادُواْ بِهِۦ كَيۡدٗا فَجَعَلۡنَٰهُمُ ٱلۡأَخۡسَرِينَ ٧٠
And they intended for him a plan [i.e., harm], but We made them the greatest losers.
21:71
وَنَجَّيۡنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا لِلۡعَٰلَمِينَ ٧١
And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds [i.e., peoples].
21:72
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ نَافِلَةٗۖ وَكُلّٗا جَعَلۡنَا صَٰلِحِينَ ٧٢
And We gave him Isaac and Jacob in addition, and all [of them] We made righteous.
Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy