Al-AnbyaJuz 17 · Page 322

Al-Anbya 21:9

The Prophets · Juz 17 · Page 322

ثُمَّ صَدَقۡنَٰهُمُ ٱلۡوَعۡدَ فَأَنجَيۡنَٰهُمۡ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهۡلَكۡنَا ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٩

Then1 We fulfilled for them the promise, and We saved them and whom We willed and destroyed the transgressors.

1 translator’s note
  1. Once they had conveyed the message. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 21:7–9

اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9)

[9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 322

Al-AnbyaJuz 17 · Page 322

21:1

ٱقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ مُّعۡرِضُونَ ١

[The time of] their account has approached for the people, while they are in heedlessness turning away.

21:2

مَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّن رَّبِّهِم مُّحۡدَثٍ إِلَّا ٱسۡتَمَعُوهُ وَهُمۡ يَلۡعَبُونَ ٢

No mention [i.e., revelation] comes to them anew from their Lord except that they listen to it while they are at play

21:3

لَاهِيَةٗ قُلُوبُهُمۡۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ هَلۡ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡۖ أَفَتَأۡتُونَ ٱلسِّحۡرَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ ٣

With their hearts distracted. And those who do wrong conceal their private conversation, [saying], "Is this [Prophet] except a human being like you? So would you approach magic while you are aware [of it]?"

21:4

قَالَ رَبِّي يَعۡلَمُ ٱلۡقَوۡلَ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٤

He [the Prophet (ﷺ)] said, "My Lord knows whatever is said throughout the heaven and earth, and He is the Hearing, the Knowing."

21:5

بَلۡ قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمِۭ بَلِ ٱفۡتَرَىٰهُ بَلۡ هُوَ شَاعِرٞ فَلۡيَأۡتِنَا بِـَٔايَةٖ كَمَآ أُرۡسِلَ ٱلۡأَوَّلُونَ ٥

But they say, "[The revelation is but] a mixture of false dreams; rather, he has invented it; rather, he is a poet. So let him bring us a sign just as the previous [messengers] were sent [with miracles]."

21:6

مَآ ءَامَنَتۡ قَبۡلَهُم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآۖ أَفَهُمۡ يُؤۡمِنُونَ ٦

Not a [single] city which We destroyed believed before them,1 so will they believe?

1 translator’s note
  1. Even though they had witnessed signs and miracles. ↩

21:7

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧

And We sent not before you, [O Muḥammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message [i.e., former scriptures] if you do not know.

21:8

وَمَا جَعَلۡنَٰهُمۡ جَسَدٗا لَّا يَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَٰلِدِينَ ٨

And We did not make them [i.e., the prophets] forms not eating food,1 nor were they immortal [on earth].

1 translator’s note
  1. Like the angels. Rather, they were human beings with human attributes. ↩

21:9

ثُمَّ صَدَقۡنَٰهُمُ ٱلۡوَعۡدَ فَأَنجَيۡنَٰهُمۡ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهۡلَكۡنَا ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٩

Then1 We fulfilled for them the promise, and We saved them and whom We willed and destroyed the transgressors.

1 translator’s note
  1. Once they had conveyed the message. ↩

21:10

لَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ كِتَٰبٗا فِيهِ ذِكۡرُكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٠

We have certainly sent down to you a Book [i.e., the Qur’ān] in which is your mention.1 Then will you not reason?

1 translator’s note
  1. This implies the honor of having been mentioned or addressed. Another meaning is "your reminder." ↩

Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy

As-Sa'diTafsir · 21:9

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском