Al-Hajj 22:24
The Pilgrimage · Juz 17 · Page 335
وَهُدُوٓاْ إِلَى ٱلطَّيِّبِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَهُدُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡحَمِيدِ ٢٤
And they had been guided [in worldly life] to good speech, and they were guided to the path of the Praiseworthy.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 22:17–24
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘
[22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔
[23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔
[24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘
[18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
Page 335
22:24
وَهُدُوٓاْ إِلَى ٱلطَّيِّبِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَهُدُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡحَمِيدِ ٢٤
And they had been guided [in worldly life] to good speech, and they were guided to the path of the Praiseworthy.
22:25
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ٱلَّذِي جَعَلۡنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ وَمَن يُرِدۡ فِيهِ بِإِلۡحَادِۭ بِظُلۡمٖ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٢٥
Indeed, those who have disbelieved and avert [people] from the way of Allāh and [from] al-Masjid al-Ḥarām, which We made for the people - equal are the resident therein and one from outside - and [also] whoever intends [a deed] therein1 of deviation [in religion] by wrongdoing - We will make him taste of a painful punishment.
1 translator’s note
- Whether inside its boundaries or intending from afar to do evil therein. The Ḥaram is unique in that the mere intention of sin therein (whether or not it is actually carried out) is sufficient to bring punishment from Allāh. ↩
22:26
وَإِذۡ بَوَّأۡنَا لِإِبۡرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلۡبَيۡتِ أَن لَّا تُشۡرِكۡ بِي شَيۡـٔٗا وَطَهِّرۡ بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ٢٦
And [mention, O Muḥammad], when We designated for Abraham the site of the House, [saying], "Do not associate anything with Me and purify My House for those who perform ṭawāf1 and those who stand [in prayer] and those who bow and prostrate.
1 translator’s note
- See footnote to 2:125. ↩
22:27
وَأَذِّن فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ ٢٧
And proclaim to the people the ḥajj [pilgrimage]; they will come to you on foot and on every lean camel; they will come from every distant pass -
22:28
لِّيَشۡهَدُواْ مَنَٰفِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ فِيٓ أَيَّامٖ مَّعۡلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۖ فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡبَآئِسَ ٱلۡفَقِيرَ ٢٨
That they may witness [i.e., attend] benefits for themselves and mention the name of Allāh on known [i.e., specific] days over what He has provided for them of [sacrificial] animals.1 So eat of them and feed the miserable and poor.
1 translator’s note
- Al-anʿām: camels, cattle, sheep and goats. ↩
22:29
ثُمَّ لۡيَقۡضُواْ تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوفُواْ نُذُورَهُمۡ وَلۡيَطَّوَّفُواْ بِٱلۡبَيۡتِ ٱلۡعَتِيقِ ٢٩
Then let them end their untidiness and fulfill their vows and perform ṭawāf around the ancient House."
22:30
ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦۗ وَأُحِلَّتۡ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱجۡتَنِبُواْ ٱلرِّجۡسَ مِنَ ٱلۡأَوۡثَٰنِ وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ ٣٠
That [has been commanded], and whoever honors the sacred ordinances of Allāh - it is best for him in the sight of his Lord. And permitted to you are the grazing livestock, except what is recited to you.1 So avoid the uncleanliness of idols and avoid false statement,
1 translator’s note
- See 5:3. ↩