Al-Hajj 22:58
The Pilgrimage · Juz 17 · Page 339
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٥٨
And those who emigrated for the cause of Allāh and then were killed or died - Allāh will surely provide for them a good provision. And indeed, it is Allāh who is the best of providers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 22:58–59
اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں ، پھر وہ قتل (شہید) کیے گئے یا وہ مر گئے البتہ ضرور رزق دے گا ان کو اللہ رزق بہت اچھا اور بلاشبہ اللہ، البتہ وہی ہے سب سے بہتر رزق دینے والا (58) البتہ ضرور داخل کرے گا وہ ان کو اس مقام میں کہ وہ پسند کریں گے اسے اور بلاشبہ اللہ البتہ خوب جاننے والا بردبار ہے (59)
[58] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطراپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پرجان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ﴿ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزۡقًا حَسَنًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ انھیں اچھا رزق عطا کرے گا ‘‘ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کرکے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں ، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کشادہ اور اچھے رزق کی ذمہ داری اٹھائی ہے، خواہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ بستر پرجان دے یا اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے، ان سب کے لیے رزق کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہجرت کرنے والے کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ جب وہ اپنے گھر بار اور مال و اولاد کو چھوڑ کر نکلے گا تو محتاج ہو جائے گا کیونکہ اس کا رازق وہ ہے جو سب سے بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔ یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا تھا۔ مہاجرین سابقین نے نصرت دین کی خاطر اپنا گھر بار، اولاد اور مال چھوڑ دیا تو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت سے شہر فتح کروائے، انھیں لوگوں پر اقتدار و اختیار عطا کیا تو انھوں نے ان شہروں سے مال حاصل کیا اور اس مال کے ذریعے سے سب سے دولت مند ہوگئے۔
[59] اور انکا حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مصداق ہوگیا : ﴿ لَيُدۡخِلَنَّهُمۡ مُّدۡخَلًا يَّرۡضَوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے۔‘‘ اس سے مراد یا تو وہ شہر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح كيے، خاص طور پر مکہ مکرمہ کیونکہ اہل ایمان مکہ مکرمہ میں نہایت مسرت اور رضا کی حالات میں داخل ہوئے تھے … یا اس سے مراد آخرت کا رزق اور جنت میں داخل ہونا ہے۔ پس آیت کریمہ رزق کی دونوں اقسام، یعنی رزق دنیا اور رزق آخرت دونوں کو جمع کرنے والی ہے لفظ کا اطلاق دونوں کے لیے درست اور معنی دونوں کے صحیح ہے۔ ان تمام معانی کے اطلاق سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ظاہری اور باطنی، گزرے ہوئے اور آنے والے تمام امور کا علم رکھتا ہے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ ﴾ مخلوق اس کی نافرمانی کرتی ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتی ہے مگر وہ کامل قدرت رکھنے کے باوجود سزا دینے میں جلدی نہیں کرتابلکہ ان کو پیہم رزق مہیا فرماتا اور اپنے فضل سے انھیں نوازتا ہے۔
Page 339
22:56
ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٥٦
[All] sovereignty that Day is for Allāh;1 He will judge between them. So they who believed and did righteous deeds will be in the Gardens of Pleasure.
1 translator’s note
- None will compete with Him for authority at that time. ↩
22:57
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٥٧
And they who disbelieved and denied Our signs - for those there will be a humiliating punishment.
22:58
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٥٨
And those who emigrated for the cause of Allāh and then were killed or died - Allāh will surely provide for them a good provision. And indeed, it is Allāh who is the best of providers.
22:59
لَيُدۡخِلَنَّهُم مُّدۡخَلٗا يَرۡضَوۡنَهُۥۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٞ ٥٩
He will surely cause them to enter an entrance with which they will be pleased, and indeed, Allāh is Knowing and Forbearing.
22:60
۞ ذَٰلِكَۖ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيۡهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ ٦٠
That [is so]. And whoever responds [to injustice] with the equivalent of that with which he was harmed and then is tyrannized - Allāh will surely aid him. Indeed, Allāh is Pardoning and Forgiving.1
1 translator’s note
- In spite of His ability to take vengeance. The statement contains a suggestion that the believers pardon as well. ↩
22:61
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ ٦١
That1 is because Allāh causes the night to enter the day and causes the day to enter the night and because Allāh is Hearing and Seeing.
1 translator’s note
- i.e., Allāh's capability to give assistance or victory to the oppressed. ↩
22:62
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٦٢
That is because Allāh is the True Reality, and that which they call upon other than Him is falsehood, and because Allāh is the Most High, the Grand.
22:63
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَتُصۡبِحُ ٱلۡأَرۡضُ مُخۡضَرَّةًۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ ٦٣
Do you not see that Allāh has sent down rain from the sky and the earth becomes green? Indeed, Allāh is Subtle1 and Aware.2
22:64
لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٦٤
To Him belongs what is in the heavens and what is on the earth. And indeed, Allāh is the Free of need, the Praiseworthy.