Al-Hajj 22:65
The Pilgrimage · Juz 17 · Page 340
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٦٥
Do you not see that Allāh has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allāh, to the people, is Kind and Merciful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 22:65–66
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے تابع کر دیا واسطے تمھارے جو کچھ زمین میں ہے اور کشتیوں کو جو چلتی ہیں سمندر میں ساتھ اس کے حکم کے اور وہی تھامے رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے وہ اوپر زمین کے مگر ساتھ اسی کے حکم کے بلاشبہ اللہ لوگوں پر البتہ نہایت شفقت کرنے والا ، بڑا مہربان ہے (65) اور وہی ہے جس نے زندہ کیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں ، پھر (دوبارہ) وہ زندہ کرے گا تمھیں ، بے شک انسان البتہ بڑا ناشکراہے (66)
[65] کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بے پایاں نعمت اور بے حد احسانات کو نہیں دیکھا؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیے مسخر کر دیا ہے، چنانچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لیے مسخر کر دیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کر دیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے۔﴿ وَالۡفُلۡكَ ﴾ یعنی تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کر دیا ﴿ تَجۡرِيۡ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ وہ سمندوں میں تمھیں اور تمھارے تجارتی سامان کو اٹھائے پھرتی ہیں اور تمھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں ، نیز تم سمندر سے موتی نکالتے ہو جنھیں تم زیور کے طور پر پہنتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ ﴿وَيُمۡسِكُ السَّمَآءَؔ اَنۡ تَقَعَ عَلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتا اور زمین پر موجود ہر چیز کو تلف اور ہر انسان کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ١ۚ ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾(فاطر:35؍41) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے اگر وہ دونوں ٹل (ڈول)جائیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور بخش دینے والا ہے۔ ‘‘﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھلائی چاہتا ہے اور وہ خود برائی اور ضرر چاہتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام اشیاء کو ان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔
[66]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاكُمۡ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے تمھیں زندہ کیا۔‘‘ اور تمھیں عدم سے وجود میں لایا ﴿ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ﴾ پھر وہ تمھیں زندہ کرنے کے بعد مارے گا ﴿ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ پھر تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ دے۔ ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ﴾ ’’بے شک انسان۔‘‘ یعنی جنس انسان ، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ﴿ لَكَفُوۡرٌ ﴾ ’’ناشکرا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور اللہ تعالیٰ کا ناسپاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ بسااوقات وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا اور اپنے رب کی قدرت کا انکار کرتا ہے۔
Page 340
22:65
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٦٥
Do you not see that Allāh has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allāh, to the people, is Kind and Merciful.
22:66
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۗ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَكَفُورٞ ٦٦
And He is the one who gave you life; then He causes you to die and then will [again] give you life. Indeed, mankind is ungrateful.
22:67
لِّكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكًا هُمۡ نَاسِكُوهُۖ فَلَا يُنَٰزِعُنَّكَ فِي ٱلۡأَمۡرِۚ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدٗى مُّسۡتَقِيمٖ ٦٧
For every [religious] community We have appointed rites which they perform. So, [O Muḥammad], let them [i.e., the disbelievers] not contend with you over the matter but invite [them] to your Lord. Indeed, you are upon straight guidance.
22:68
وَإِن جَٰدَلُوكَ فَقُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٦٨
And if they dispute with you, then say, "Allāh is most knowing of what you do.
22:69
ٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ٦٩
Allāh will judge between you on the Day of Resurrection concerning that over which you used to differ."
22:70
أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ ٧٠
Do you not know that Allāh knows what is in the heaven and earth? Indeed, that is in a Record.1 Indeed that, for Allāh, is easy.
1 translator’s note
- The Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ), which is with Allāh. ↩
22:71
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَمَا لَيۡسَ لَهُم بِهِۦ عِلۡمٞۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٖ ٧١
And they worship besides Allāh that for which He has not sent down authority and that of which they have no knowledge. And there will not be for the wrongdoers any helper.
22:72
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمُنكَرَۖ يَكَادُونَ يَسۡطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۗ قُلۡ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكُمُۚ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٧٢
And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that?1 [It is] the Fire which Allāh has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."
1 translator’s note
- i.e., worse than the rage you feel against those who recite Allāh's verses or worse than your threats against them. ↩