Al-Hajj 22:7
The Pilgrimage · Juz 17 · Page 333
وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡعَثُ مَن فِي ٱلۡقُبُورِ ٧
And [that they may know] that the Hour is coming - no doubt about it - and that Allāh will resurrect those in the graves.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 22:5–7
اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔
[7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
Page 333
22:6
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّهُۥ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَأَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٦
That is because Allāh is the True Reality and because He gives life to the dead and because He is over all things competent
22:7
وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡعَثُ مَن فِي ٱلۡقُبُورِ ٧
And [that they may know] that the Hour is coming - no doubt about it - and that Allāh will resurrect those in the graves.
22:8
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ ٨
And of the people is he who disputes about Allāh without knowledge or guidance or an enlightening book [from Him],
22:9
ثَانِيَ عِطۡفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۖ لَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ وَنُذِيقُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ٩
Twisting his neck [in arrogance] to mislead [people] from the way of Allāh. For him in the world is disgrace, and We will make him taste on the Day of Resurrection the punishment of the Burning Fire [while it is said],
22:10
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدَاكَ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ١٠
"That is for what your hands have put forth and because Allāh is not ever unjust to [His] servants."
22:11
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعۡبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرۡفٖۖ فَإِنۡ أَصَابَهُۥ خَيۡرٌ ٱطۡمَأَنَّ بِهِۦۖ وَإِنۡ أَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ ١١
And of the people is he who worships Allāh on an edge.1 If he is touched by good, he is reassured by it; but if he is struck by trial, he turns on his face [to unbelief]. He has lost [this] world and the Hereafter. That is what is the manifest loss.
1 translator’s note
- At the edge of his religion, so to speak, i.e., with uncertainty, hypocrisy or heedlessness. ↩
22:12
يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ ١٢
He invokes instead of Allāh that which neither harms him nor benefits him. That is what is the extreme error.
22:13
يَدۡعُواْ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقۡرَبُ مِن نَّفۡعِهِۦۚ لَبِئۡسَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَلَبِئۡسَ ٱلۡعَشِيرُ ١٣
He invokes one whose harm is closer than his benefit - how wretched the protector and how wretched the associate.
22:14
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ ١٤
Indeed, Allāh will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. Indeed, Allāh does what He intends.
22:15
مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ إِلَى ٱلسَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ فَلۡيَنظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهُۥ مَا يَغِيظُ ١٥
Whoever should think that Allāh will not support him [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] in this world and the Hereafter - let him extend a rope to the ceiling, then cut off [his breath],1 and let him see: will his effort remove that which enrages [him]?
1 translator’s note
- i.e., strangle himself. ↩