Al-Hajj 22:72
The Pilgrimage · Juz 17 · Page 340
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمُنكَرَۖ يَكَادُونَ يَسۡطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۗ قُلۡ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكُمُۚ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٧٢
And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that?1 [It is] the Fire which Allāh has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."
1 translator’s note
- i.e., worse than the rage you feel against those who recite Allāh's verses or worse than your threats against them. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 22:71–72
اور وہ (مشرک) عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز (بتوں ) کی کہ نہیں نازل کی اللہ نے اس کی کوئی دلیل اور اس چیز کی کہ نہیں ہے ان کو اس کاکوئی علم اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مدد گار (71) جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو پہچانتے ہیں آپ چہروں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا ناگواری، قریب ہوتے ہیں وہ کہ حملہ کر دیں ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان پر ہماری آیتیں ، آپ کہہ دیجیے! کیاپس خبر دوں میں تمھیں ساتھ بدتر کے اس سے بھی؟ (وہ) آگ ہے، وعدہ کیا اس کا اللہ نے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیااوربری ہے و ہ ، پھرنے کی جگہ (72)
[71] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنھوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انھوں نے اپنے گمراہ آباؤ واجداد سے حاصل کیا ہے… اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس… فی نفس الامر… کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں ، وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔
[72] کیا یہ لوگ جن کو اپنے موقف کے بطلان کا علم نہیں ، یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات اور ہدایت آ جائے گی وہ اس کی اتباع کریں گے یا وہ اپنے باطل ہی پر راضی ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیات۔‘‘ وہ جو اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر آیات ہیں اور باطل میں سے حق کو واضح کرنے کو مستلزم ہیں … تو یہ ان آیات کی طرف التفات کرتے ہیں نہ ان کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ﴿ تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡمُنۡؔكَرَ﴾ آپﷺ ان کے چہروں کو، ان آیات الٰہی کے ساتھ ان کے بغض و کراہت کی بنا پر، بگڑا ہوا اور ان کو منقبض اور ترش رو دیکھتے ہیں ۔ ﴿ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ یعنی ان کے شدت بغض اور حق کے ساتھ عناد اور عداوت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ ان آیات کی تلاوت کرنے والے کو قتل کرنے یا مارنے کے لیے اس پر چڑھ دوڑیں ۔ پس کفار کی یہ حالت بہت ہی بری حالت اور ان کا شر بہت ہی برا شر ہے مگر ان کی ایک حالت اس سے بھی بدتر ہے جس کی طرف یہ لوٹیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكُمۡ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بدتر چیز کی، وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘ پس اس کا شر بہت طویل اور عریض ہے، اس کے آلام بہت شدید ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہی رہیں گے۔
Page 340
22:65
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٦٥
Do you not see that Allāh has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allāh, to the people, is Kind and Merciful.
22:66
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۗ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَكَفُورٞ ٦٦
And He is the one who gave you life; then He causes you to die and then will [again] give you life. Indeed, mankind is ungrateful.
22:67
لِّكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكًا هُمۡ نَاسِكُوهُۖ فَلَا يُنَٰزِعُنَّكَ فِي ٱلۡأَمۡرِۚ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدٗى مُّسۡتَقِيمٖ ٦٧
For every [religious] community We have appointed rites which they perform. So, [O Muḥammad], let them [i.e., the disbelievers] not contend with you over the matter but invite [them] to your Lord. Indeed, you are upon straight guidance.
22:68
وَإِن جَٰدَلُوكَ فَقُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٦٨
And if they dispute with you, then say, "Allāh is most knowing of what you do.
22:69
ٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ٦٩
Allāh will judge between you on the Day of Resurrection concerning that over which you used to differ."
22:70
أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ ٧٠
Do you not know that Allāh knows what is in the heaven and earth? Indeed, that is in a Record.1 Indeed that, for Allāh, is easy.
1 translator’s note
- The Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ), which is with Allāh. ↩
22:71
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَمَا لَيۡسَ لَهُم بِهِۦ عِلۡمٞۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٖ ٧١
And they worship besides Allāh that for which He has not sent down authority and that of which they have no knowledge. And there will not be for the wrongdoers any helper.
22:72
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمُنكَرَۖ يَكَادُونَ يَسۡطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۗ قُلۡ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكُمُۚ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٧٢
And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that?1 [It is] the Fire which Allāh has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."
1 translator’s note
- i.e., worse than the rage you feel against those who recite Allāh's verses or worse than your threats against them. ↩