Al-Mu'minun 23:17
The Believers · Juz 18 · Page 342
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ ١٧
And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 23:17–20
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
Page 342
سورة المؤمنون
Al-Mu'minun
The Believers · Meccan · 118 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
23:1
قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١
Certainly will the believers have succeeded:
23:2
ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ٢
They who are during their prayer humbly intent
23:3
وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ ٣
And they who turn away from ill speech
23:4
وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ ٤
And they who are observant of zakāh
23:5
وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ ٥
And they who guard their private parts
23:6
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ ٦
Except from their wives or those their right hands possess,1 for indeed, they will not be blamed -
1 translator’s note
- Female slaves or captives under their ownership. ↩
23:7
فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ ٧
But whoever seeks beyond that, then those are the transgressors -
23:8
وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِأَمَٰنَٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَٰعُونَ ٨
And they who are to their trusts and their promises attentive
23:9
وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ ٩
And they who carefully maintain their prayers -
23:10
أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡوَٰرِثُونَ ١٠
Those are the inheritors
23:11
ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ١١
Who will inherit al-Firdaus.1 They will abide therein eternally.
1 translator’s note
- The highest part of Paradise. ↩
23:12
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ ١٢
And certainly did We create man from an extract of clay.
23:13
ثُمَّ جَعَلۡنَٰهُ نُطۡفَةٗ فِي قَرَارٖ مَّكِينٖ ١٣
Then We placed him as a sperm-drop1 in a firm lodging [i.e., the womb].
1 translator’s note
- Or "as a zygote." ↩
23:14
ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ ١٤
Then We made the sperm-drop into a clinging clot, and We made the clot into a lump [of flesh], and We made [from] the lump, bones, and We covered the bones with flesh; then We developed him into another creation. So blessed is Allāh, the best of creators.1
1 translator’s note
- i.e., the most skillful and only true Creator. ↩
23:15
ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ١٥
Then indeed, after that you are to die.
23:16
ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ ١٦
Then indeed you, on the Day of Resurrection, will be resurrected.
23:17
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ ١٧
And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware.