Al-Mu'minunJuz 18 · Page 342

Al-Mu'minun 23:3

The Believers · Juz 18 · Page 342

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ ٣

And they who turn away from ill speech

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 23:1–11

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔

[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔

[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔

[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔

[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔

[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔

[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔

[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)

[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔

[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔

[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾

[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 342

Al-Mu'minunJuz 18 · Page 342

سورة المؤمنون

Al-Mu'minun

The Believers · Meccan · 118 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

23:1

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١

Certainly will the believers have succeeded:

23:2

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ٢

They who are during their prayer humbly intent

23:3

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ ٣

And they who turn away from ill speech

23:4

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ ٤

And they who are observant of zakāh

23:5

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ ٥

And they who guard their private parts

23:6

إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ ٦

Except from their wives or those their right hands possess,1 for indeed, they will not be blamed -

1 translator’s note
  1. Female slaves or captives under their ownership. ↩

23:7

فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ ٧

But whoever seeks beyond that, then those are the transgressors -

23:8

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِأَمَٰنَٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَٰعُونَ ٨

And they who are to their trusts and their promises attentive

23:9

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ ٩

And they who carefully maintain their prayers -

23:10

أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡوَٰرِثُونَ ١٠

Those are the inheritors

23:11

ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ١١

Who will inherit al-Firdaus.1 They will abide therein eternally.

1 translator’s note
  1. The highest part of Paradise. ↩

23:12

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ ١٢

And certainly did We create man from an extract of clay.

23:13

ثُمَّ جَعَلۡنَٰهُ نُطۡفَةٗ فِي قَرَارٖ مَّكِينٖ ١٣

Then We placed him as a sperm-drop1 in a firm lodging [i.e., the womb].

1 translator’s note
  1. Or "as a zygote." ↩

23:14

ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ ١٤

Then We made the sperm-drop into a clinging clot, and We made the clot into a lump [of flesh], and We made [from] the lump, bones, and We covered the bones with flesh; then We developed him into another creation. So blessed is Allāh, the best of creators.1

1 translator’s note
  1. i.e., the most skillful and only true Creator. ↩

23:15

ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ١٥

Then indeed, after that you are to die.

23:16

ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ ١٦

Then indeed you, on the Day of Resurrection, will be resurrected.

23:17

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ ١٧

And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware.

As-Sa'diTafsir · 23:3

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском