An-Nur 24:18
The Light · Juz 18 · Page 351
وَيُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ١٨
And Allāh makes clear to you the verses [i.e., His rulings], and Allāh is Knowing and Wise.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 24:11–26
بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26)
[11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔
[12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔
[13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔
[14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔
[15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
[16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘
Page 351
24:11
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلۡإِفۡكِ عُصۡبَةٞ مِّنكُمۡۚ لَا تَحۡسَبُوهُ شَرّٗا لَّكُمۖ بَلۡ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُم مَّا ٱكۡتَسَبَ مِنَ ٱلۡإِثۡمِۚ وَٱلَّذِي تَوَلَّىٰ كِبۡرَهُۥ مِنۡهُمۡ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١١
Indeed, those who came with falsehood1 are a group among you. Do not think it bad for you; rather, it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof2 - for him is a great punishment [i.e., Hellfire].
24:12
لَّوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ ظَنَّ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بِأَنفُسِهِمۡ خَيۡرٗا وَقَالُواْ هَٰذَآ إِفۡكٞ مُّبِينٞ ١٢
Why, when you heard it, did not the believing men and believing women think good of themselves [i.e., one another] and say, "This is an obvious falsehood"?
24:13
لَّوۡلَا جَآءُو عَلَيۡهِ بِأَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَۚ فَإِذۡ لَمۡ يَأۡتُواْ بِٱلشُّهَدَآءِ فَأُوْلَٰٓئِكَ عِندَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ ١٣
Why did they [who slandered] not produce for it four witnesses? And when they do not produce the witnesses, then it is they, in the sight of Allāh, who are the liars.
24:14
وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِي مَآ أَفَضۡتُمۡ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٤
And if it had not been for the favor of Allāh upon you and His mercy in this world and the Hereafter, you would have been touched for that [lie] in which you were involved by a great punishment
24:15
إِذۡ تَلَقَّوۡنَهُۥ بِأَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُولُونَ بِأَفۡوَاهِكُم مَّا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ ١٥
When you received it with your tongues1 and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allāh, tremendous.
1 translator’s note
- Rather than your ears, i.e., not thinking about what you had heard but hastening to repeat it carelessly. ↩
24:16
وَلَوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ قُلۡتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبۡحَٰنَكَ هَٰذَا بُهۡتَٰنٌ عَظِيمٞ ١٦
And why, when you heard it, did you not say, "It is not for us to speak of this. Exalted are You, [O Allāh]; this is a great slander"?
24:17
يَعِظُكُمُ ٱللَّهُ أَن تَعُودُواْ لِمِثۡلِهِۦٓ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٧
Allāh warns you against returning to the likes of this [conduct], ever, if you should be believers.
24:18
وَيُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ١٨
And Allāh makes clear to you the verses [i.e., His rulings], and Allāh is Knowing and Wise.
24:19
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ١٩
Indeed, those who like that immorality1 should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allāh knows2 and you do not know.
24:20
وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ وَأَنَّ ٱللَّهَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٢٠
And if it had not been for the favor of Allāh upon you and His mercy...1 and because Allāh is Kind and Merciful.
1 translator’s note
- See footnote to verse 10. ↩