An-NurJuz 18 · Page 352

An-Nur 24:27

The Light · Juz 18 · Page 352

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ بُيُوتِكُمۡ حَتَّىٰ تَسۡتَأۡنِسُواْ وَتُسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَهۡلِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٢٧

O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet1 their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded [i.e., advised].

1 translator’s note
  1. By the words "As-salāmu ʿalaykum" ("Peace be upon you"). ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 24:27–29

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم (اور) گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے حتی کہ تم اجازت لے لواور سلام کرو اوپر ان گھر والوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (27)پس اگر نہ پاؤ تم ان میں کسی کو تو نہ داخل ہو تم ان میں حتی کہ اجازت دی جائے تمھیں اور اگر کہا جائے تمھیں ، لوٹ جاؤ تم تو لوٹ جاؤ تم، یہ (واپسی) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیےاور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے (28) نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ داخل ہو تم ایسے گھروں میں کہ نہیں سکونت کی جاتی ان میں ،ان میں منفعت (فائدہ) ہے تمھارے لیے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (29)

[27]اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں:(۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156)اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔(۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177)﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔

[28]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَكُمۡ١ۚ وَاِنۡ قِيۡلَ لَكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ﴾ ’’اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمھیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تمھیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضی ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمھیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمھارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے، چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿ هُوَ اَزۡكٰى لَكُمۡ ﴾ تمھیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمھاری نیکیوں میں اضافہ کرنے کے لیے یہ طریق کار تمھارے لیے بہتر ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ، اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔

[29] یہ حکم ان گھروں کے لیے ہے جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال ومتاع موجود ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو، اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جا سکتی ہو ، مثلاً: کرائے کے مکانات وغیرہ… تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ ﴾ ان گھروں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل كيے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔﴿ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو، البتہ اس میں تمھارا سامان ہو۔‘‘ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔‘‘ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے ان گھروں کو خارج کر دیا جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کر دیا۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمھارے مصالح کا بھی علم ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 352

An-NurJuz 18 · Page 352

24:21

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ وَمَن يَتَّبِعۡ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَإِنَّهُۥ يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۚ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ أَبَدٗا وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢١

O you who have believed, do not follow the footsteps of Satan. And whoever follows the footsteps of Satan - indeed, he enjoins immorality and wrongdoing. And if not for the favor of Allāh upon you and His mercy, not one of you would have been pure, ever, but Allāh purifies whom He wills, and Allāh is Hearing and Knowing.

24:22

وَلَا يَأۡتَلِ أُوْلُواْ ٱلۡفَضۡلِ مِنكُمۡ وَٱلسَّعَةِ أَن يُؤۡتُوٓاْ أُوْلِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَلۡيَعۡفُواْ وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ٢٢

And let not those of virtue among you and wealth swear not to give [aid] to their relatives and the needy and the emigrants for the cause of Allāh, and let them pardon and overlook. Would you not like that Allāh should forgive you? And Allāh is Forgiving and Merciful.

24:23

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡغَٰفِلَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ لُعِنُواْ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ٢٣

Indeed, those who [falsely] accuse chaste, unaware and believing women are cursed in this world and the Hereafter; and they will have a great punishment

24:24

يَوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ أَلۡسِنَتُهُمۡ وَأَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٤

On a Day when their tongues, their hands and their feet will bear witness against them as to what they used to do.

24:25

يَوۡمَئِذٖ يُوَفِّيهِمُ ٱللَّهُ دِينَهُمُ ٱلۡحَقَّ وَيَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ ٱلۡمُبِينُ ٢٥

That Day, Allāh will pay them in full their true [i.e., deserved] recompense, and they will know that it is Allāh who is the manifest Truth [i.e., perfect in justice].

24:26

ٱلۡخَبِيثَٰتُ لِلۡخَبِيثِينَ وَٱلۡخَبِيثُونَ لِلۡخَبِيثَٰتِۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِۚ أُوْلَٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَۖ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ ٢٦

Evil words are for evil men, and evil men are [subjected] to evil words. And good words are for good men, and good men are [an object] of good words.1 Those [good people] are declared innocent of what they [i.e., slanderers] say. For them is forgiveness and noble provision.

1 translator’s note
  1. Another accepted interpretation is "Evil women are for evil men, and evil men are for evil women. And good women are for good men, and good men are for good women." ↩

24:27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ بُيُوتِكُمۡ حَتَّىٰ تَسۡتَأۡنِسُواْ وَتُسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَهۡلِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٢٧

O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet1 their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded [i.e., advised].

1 translator’s note
  1. By the words "As-salāmu ʿalaykum" ("Peace be upon you"). ↩
As-Sa'diTafsir · 24:27

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском