An-NurJuz 18 · Page 356

An-Nur 24:47

The Light · Juz 18 · Page 356

وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعۡنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَۚ وَمَآ أُوْلَٰٓئِكَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٤٧

But they [i.e., the hypocrites] say, "We have believed in Allāh and in the Messenger, and we obey"; then a party of them turns away after that. And those are not believers.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 24:47–50

اور وہ (منافق) کہتے ہیں ، ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور ساتھ( اس کے)رسول کےاور اطاعت کی ہم نے، پھر پھر جاتا ہے ایک فریق ان میں سے بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ لوگ مومن (47) اور جب بلائے جاتے ہیں وہ طرف اللہ اور اس کے رسول کی تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے درمیان تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اعراض کرنے والے (ہوتے) ہیں (48)اور اگر ہو ان کے لیے حق تو آتے ہیں آپ کی طرف فرماں بردار ہو کر (49) کیا ان کے دلوں میں روگ ہے یا انھوں نے شک کیا یا وہ ڈرتے ہیں اس بات سے کہ ظلم کرے گا اللہ ان پر او ر اس کا رسول؟ (نہیں !)بلکہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں (50)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری، ضعف ایمان، نفاق، شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾(الانفال:8؍23) ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی۔ مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتااور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے جو ایمان اور اطاعت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ ضعیف الایمان ہیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ بہت سی عبادات کو قائم نہیں کرتے خاص طور پر ایسی عبادات جو بہت سے نفوس پر گراں گزرتی ہیں ، مثلاً: زکاۃ، نفقات واجبہ و مستحبہ اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔

[48]﴿ وَاِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ جب ان کے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مخاصمت ہوتی ہے اور انھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے۔ ﴿ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تو ایک گروہ ان میں سے اعراض کرتا ہے۔‘‘ وہ جاہلیت کے احکام چاہتے ہیں اور غیر شرعی قوانین کو شرعی قوانین پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ حق ان کے خلاف ہو گا اور شریعت وہی فیصلہ کرے گی جو واقع کے مطابق ہو گا۔

[49]﴿ وَاِنۡ يَّكُنۡ لَّهُمُ الۡحَقُّ يَاۡتُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے تو شریعت کے فیصلے کو قبول کرلیتے ہیں ﴿ مُذۡعِنِيۡنَ﴾ ’’اس کو مانتے ہوئے۔‘‘ ان کا شریعت کے فیصلے کو قبول کرنا اس بنا پر نہیں کہ یہ شرعی فیصلہ ہے بلکہ وہ اس فیصلے کو اس بنا پر قبول کرتے ہیں کہ یہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے تب وہ اس صورت میں قابل ستائش نہیں ہیں خواہ وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے ہی کیوں نہ آئیں کیونکہ بندہ درحقیقت وہ ہے جو اپنے محبوب اور ناپسندیدہ امور میں اور اپنی خوشی اور غمی میں حق کی اتباع کرتا ہے اور وہ شخص جو شریعت کی اتباع اس وقت کرتا ہے جب شریعت اس کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور اگر شریعت کا حکم اس کی خواہش کے خلاف ہو تو اسے دور پھینک دیتا ہے، وہ خواہش نفس کو شریعت پر مقدم رکھتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ نہیں ہے۔

[50] ان لوگوں کی احکام شریعت سے روگردانی پر ملامت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اَفِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے؟‘‘ جس نے ان کے دلوں کو صحت کے دائرہ سے نکال دیا، اس کا احساس جاتا رہا اور وہ بیمار آدمی کی طرح ہوگئے جو ہمیشہ اس چیز سے اعراض کرتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو قبول کرتا ہے جو اس کے لیے ضرر رساں ہے۔﴿ اَمِ ارۡتَابُوۡۤا ﴾ یا انھیں کوئی شک ہے یا ان کے دل اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے حکم کے بارے میں اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا۔﴿ اَمۡ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّحِيۡفَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ظلم وجور پر مبنی فیصلہ کرے گا حالانکہ یہ تو انھی کا وصف ہے۔ ﴿بَلۡ اُولٰٓىِٕـكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ظالم تو وہ خود ہیں ۔‘‘ رہا اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کا فیصلہ تو وہ انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اور حکمت کے موافق ہے۔ ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدہ:5؍50) ’’یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ اچھا ہو سکتا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان مجرد قول کا نام نہیں بلکہ ایمان صرف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی مقرون ہو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے ایمان کی نفی کی ہے جو اطاعت سے منہ موڑتا ہے اور ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے وجوب کو نہیں مانتا اور اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سرافگندہ نہیں ہوتا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں بیماری اور اس کے ایمان میں شک وریب کا شائبہ ہے، نیز احکام شریعت کے بارے میں بدگمانی کرنا اور ان کو عدل و حکمت کے خلاف سمجھنا حرام ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 356

An-NurJuz 18 · Page 356

24:44

يُقَلِّبُ ٱللَّهُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٤

Allāh alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.

24:45

وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٖ مِّن مَّآءٖۖ فَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ بَطۡنِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ رِجۡلَيۡنِ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰٓ أَرۡبَعٖۚ يَخۡلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٤٥

Allāh has created every [living] creature from water. And of them are those that move on their bellies, and of them are those that walk on two legs, and of them are those that walk on four. Allāh creates what He wills. Indeed, Allāh is over all things competent.

24:46

لَّقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتٖ مُّبَيِّنَٰتٖۚ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٤٦

We have certainly sent down distinct verses. And Allāh guides whom He wills to a straight path.

24:47

وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعۡنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَۚ وَمَآ أُوْلَٰٓئِكَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٤٧

But they [i.e., the hypocrites] say, "We have believed in Allāh and in the Messenger, and we obey"; then a party of them turns away after that. And those are not believers.

24:48

وَإِذَا دُعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم مُّعۡرِضُونَ ٤٨

And when they are called to [the words of] Allāh and His Messenger to judge between them, at once a party of them turns aside [in refusal].

24:49

وَإِن يَكُن لَّهُمُ ٱلۡحَقُّ يَأۡتُوٓاْ إِلَيۡهِ مُذۡعِنِينَ ٤٩

But if the right is theirs, they come to him in prompt obedience.

24:50

أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَمِ ٱرۡتَابُوٓاْ أَمۡ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَرَسُولُهُۥۚ بَلۡ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٥٠

Is there disease in their hearts? Or have they doubted? Or do they fear that Allāh will be unjust to them, or His Messenger? Rather, it is they who are the wrongdoers [i.e., the unjust].

24:51

إِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذَا دُعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ أَن يَقُولُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٥١

The only statement of the [true] believers when they are called to Allāh and His Messenger to judge between them is that they say, "We hear and we obey." And those are the successful.

24:52

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَخۡشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقۡهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٥٢

And whoever obeys Allāh and His Messenger and fears Allāh and is conscious of Him - it is those who are the attainers.

24:53

۞ وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِنۡ أَمَرۡتَهُمۡ لَيَخۡرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقۡسِمُواْۖ طَاعَةٞ مَّعۡرُوفَةٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٥٣

And they swear by Allāh their strongest oaths that if you ordered them, they would go forth [in Allāh's cause]. Say, "Do not swear. [Such] obedience is known.1 Indeed, Allāh is [fully] Aware of that which you do."

1 translator’s note
  1. i.e., the hypocrites' pretense of obedience is known to be a lie. ↩
As-Sa'diTafsir · 24:47

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском