An-NurJuz 18 · Page 357

An-Nur 24:58

The Light · Juz 18 · Page 357

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّٰتٖۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَآءِۚ ثَلَٰثُ عَوۡرَٰتٖ لَّكُمۡۚ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّٰفُونَ عَلَيۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٥٨

O you who have believed, let those whom your right hands possess and those who have not [yet] reached puberty among you ask permission of you [before entering] at three times: before the dawn prayer and when you put aside your clothing [for rest] at noon and after the night prayer. [These are] three times of privacy1 for you. There is no blame upon you nor upon them beyond these [periods], for they continually circulate among you - some of you, among others. Thus does Allāh make clear to you the verses [i.e., His ordinances]; and Allāh is Knowing and Wise.

1 translator’s note
  1. Literally, "exposure" or "being uncovered." ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 24:58–59

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! چاہیے کہ اجازت طلب کریں تم سے وہ (غلام) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ اور وہ (لڑکے بھی) جو نہیں پہنچے بلوغت کو تم میں سے، تین بار (یعنی تین اوقات میں ) پہلے نماز فجر سےاور جس وقت اتار دیتے ہو تم کپڑے اپنے دوپہر کواور بعد نماز عشاء کے (یہ) تین وقت پردے کے ہیں تمھارے لیے ، نہیں ہے تم پر اور نہ ان ہی پر کوئی گناہ بعد ان (وقتوں ) کے، (وہ) بکثرت پھرنے (آنے جانے) والے ہیں تم پر (یعنی ) بعض تمھارے بعض پر، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (58) اور جب پہنچ جائیں لڑکے تم میں سے بلوغت کو تو چاہیے کہ وہ (بھی) اجازت طلب کریں جس طرح اجازت لیتے تھے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (59)

[58] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ ان کے غلام اور نابالغ بچے اجازت طلب کر کے ان کے پاس آیا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کی ہے اور یہ کہ اجازت طلب کرنے والوں کے لیے پردے کے یہ تین اوقات ہیں ۔ عشاء کی نماز کے بعد جب سونے کا وقت ہوتا ہے اور فجر کی نماز کے لیے بیدار ہونے سے پہلے۔ غالب حالات میں ، رات کے وقت سونے والے نے معمول کے لباس کی بجائے شب خوابی کا لباس پہنا ہوتا ہے… البتہ دن کے وقت، قیلولہ وغیرہ میں انسان بسا اوقات اسی معمول کے لباس ہی میں سو جاتا ہے۔ اس کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ مقید کیا ہے۔﴿ وَحِيۡنَ تَضَعُوۡنَ ثِيَابَكُمۡ مِّنَ الظَّهِيۡرَةِ ﴾ ’’دوپہر کے وقت جب تم (قیلولہ کے لیے) کپڑے اتارتے ہو۔‘‘ پس مذکورہ بالا تین اوقات میں تمھارے غلام اور چھوٹے بچوں کو دوسرے لوگوں کی مانند اجازت لیے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں … ان تین اوقات کے علاوہ دیگر اوقات کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحٌۢ بَعۡدَهُنَّ﴾ ’’نہیں ہے تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان اوقات کے بعد۔‘‘ یعنی یہ غلام اور بچے دوسروں کی مانند نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے محتاج ہوتے ہیں اس لیے ان کا ہر وقت اجازت طلب کرتے رہنا ان کے لیے باعث تکلیف ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ طَوّٰفُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ بَعۡضُكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ یعنی تمھارے کام سرانجام دینے اور تمھاری ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کا تمھارے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ وہ تاکید کے لیے اپنی آیات کو اپنی حکمت کے ساتھ مقرون بیان کرتا ہے تاکہ شارع کی رحمت اور اس کی حکمت کی معرفت حاصل ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ اس کا علم تمام واجبات و مستحبات اور تمام ممکنات کا احاطہ كيے ہوئے ہے، وہ اس حکمت کو بھی خوب جانتا ہے جس کی بنا پر ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھا گیا۔ پس ہر مخلوق کو وہی تخلیق عطا کی گئی ہے جو اس کے لائق ہے اور اس نے تمام شرعی احکام عطا كيے ہیں جو اس کے مناسب حال ہیں ۔ یہ متذکرہ صدر احکام بھی انھی میں سے ہیں جنھیں اس نے خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے اور ان کے مآخذ کو اور ان کے حسن کو واضح کیا ہے۔

[59]﴿وَاِذَا بَلَغَ الۡاَطۡفَالُ مِنۡكُمُ الۡحُلُمَ ﴾ ’’اور جب پہنچ جائیں بچے تم میں سے بلوغت کو۔‘‘ اور یہ وہ عمر ہے جب سوتے یا جاگتے میں منی کا انزال ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَلۡيَسۡتَاۡذِنُوۡا كَمَا اسۡتَاۡذَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو ان کو چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں جیسے اجازت مانگتے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔‘‘ یعنی تمام اوقات میں ۔ اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے ﴿ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ میں اشارہ فرمایا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں :﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ حَتّٰى تَسۡتَاۡنِسُوۡا﴾(النور:24؍27) ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔‘‘ ﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ اپنی آیتیں ۔‘‘ یعنی واضح کرتا ہے اور اس کے احکام کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾’’اور اللہ تعالیٰ باخبر اور حکمت والا ہے۔‘‘ ان دو آیات کریمہ میں متعدد فوائد ہیں :(۱) آقا اور چھوٹے بچوں کے سرپرست کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ اپنے غلاموں اور ان چھوٹے بچوں کوعلم اور آداب شرعیہ کی تعلیم دیں جو ان کی سرپرستی میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اس کے خطاب کا رخ ان کی طرف ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِيَسۡتَاۡذِنۡكُمُ الَّذِيۡنَ مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَبۡلُغُوا الۡحُلُمَ مِنۡكُمۡ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ﴾ ’’اے ایمان والو! تم سے تمھاری ملکیت کے غلاموں اور انھیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں ان کو تین اوقات میں اجازت طلب کرنی چاہیے۔‘‘ اور یہ چیز ان کی تعلیم و تادیب کے بغیر ممکن نہیں اور نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحٌۢ بَعۡدَهُنَّ ﴾’’تم پر اور ان پر ان اوقات کے بعد کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘(۲)اللہ تعالیٰ نے پردہ کی حفاظت اور اس معاملے میں ہر قسم کی احتیاط کا حکم دیا ہے، نیز اس جگہ پر جہاں انسان کے ستر کے نظر آنے کا امکان ہو وہاں غسل اور استنجاء وغیرہ سے روکا گیا ہے۔(۳) ضرورت کے وقت ستر کھولنا جائز ہے، مثلاً:سونے یا بول و براز وغیرہ کے وقت۔(۴)ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دنوں میں مسلمان رات کے وقت سونے کی طرح دوپہر کے وقت قیلولہ کرنے کے عادی تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انھیں ان کی موجودہ حالت کے مطابق خطاب کیا ہے۔(۵)اس بچے کے بارے میں جو ابھی بالغ نہیں ہوا، جائز نہیں کہ اسے ستر دیکھنے کی اجازت دی جائے اور نہ ہی اس کا ستر دیکھنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت طلب کرنے کا حکم ایسے معاملے میں دیا ہے جو جائز ہے۔(۶)غلام کے لیے اپنے مالک کا ستر دیکھنا جائز نہیں ۔ اسی طرح مالک کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے غلام کا ستر دیکھے،جیسے ہم نے بچے کے سلسلے میں بیان کیا۔(۷) واعظ اور معلم جو علوم شرعیہ میں بحث کرتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ حکم بیان کرنے کے ساتھ اس کا ماخذ اور اس کی وجہ بھی بیان کر دے اور دلیل اور تعلیل کے بغیر کوئی بات نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم مذکور بیان کرنے کے بعد اس کی علت بیان کی ہے۔ فرمایا:﴿ ثَلٰثُ عَوۡرٰتٍ لَّـكُمۡ ﴾’’یہ تین اوقات تمھارے لیے پردے کے اوقات ہیں ۔‘‘(۸) یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نابالغ بچے اور غلام حکم شرعی میں مخاطب ہیں جس طرح ان کا سرپرست مخاطب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحٌۢ بَعۡدَهُنَّ ﴾’’ان اوقات کے بعد اگر وہ اجازت لیے بغیر آئیں تو تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔‘‘(۹) بچے کا لعاب پاک ہے خواہ وہ نجاست، مثلاً:قے وغیرہ کے بعد کا لعاب ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ طَوّٰفُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھارے پاس بار بار آنے والے ہیں ۔‘‘ نیز جب رسول اللہﷺ سے بلی کے جوٹھے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: (اِنَّھَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ عَلَیْکُمْ وَالطَّوَّافَاتِ)(سنن أبي داود، الطہارۃ، باب سؤر الہرۃ، 75، و سنن النسائي، الطہارۃ، باب سؤر الہرۃ، ح: 68)’’یہ تمھارے پاس نہایت کثرت سے آنے جانے والے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہیں ۔‘‘ (اس لیے ان کا جوٹھا جائز ہے)(۱۰) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے زیر سایہ بچوں سے ایسی خدمت لے لے جس میں ان کے لیے مشقت نہ ہو۔ اس کے لیے دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ طَوّٰفُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾’’وہ تمھارے پاس باربار آنے والے ہیں ۔‘‘(۱۱)متذکرہ صدر حکم صرف ان بچوں کے لیے ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے۔ بالغ ہونے کے بعد تو ہر حال میں اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔(۱۲) منی کے انزال سے بلوغت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ تمام شرعی احکام جو بلوغت پر مترتب ہوتے ہیں ، انزال کے ساتھ ہی لاگو ہو جاتے ہیں اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ عمر یا زیر ناف بال اگنے سے بلوغت حاصل ہو جاتی ہے یا نہیں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 357

An-NurJuz 18 · Page 357

24:54

قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهۡتَدُواْۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ٥٤

Say, "Obey Allāh and obey the Messenger; but if you turn away - then upon him is only that [duty] with which he has been charged, and upon you is that with which you have been charged. And if you obey him, you will be [rightly] guided. And there is not upon the Messenger except the [responsibility for] clear notification."

24:55

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنٗاۚ يَعۡبُدُونَنِي لَا يُشۡرِكُونَ بِي شَيۡـٔٗاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٥٥

Allāh has promised those who have believed among you and done righteous deeds that He will surely grant them succession [to authority] upon the earth just as He granted it to those before them and that He will surely establish for them [therein] their religion which He has preferred for them and that He will surely substitute for them, after their fear, security, [for] they worship Me, not associating anything with Me. But whoever disbelieves1 after that - then those are the defiantly disobedient.

1 translator’s note
  1. i.e., denies the favor of Allāh or does not live by His ordinance. ↩

24:56

وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٥٦

And establish prayer and give zakāh and obey the Messenger - that you may receive mercy.

24:57

لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٥٧

Never think that the disbelievers are causing failure [to Allāh] upon the earth. Their refuge will be the Fire - and how wretched the destination.

24:58

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّٰتٖۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَآءِۚ ثَلَٰثُ عَوۡرَٰتٖ لَّكُمۡۚ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّٰفُونَ عَلَيۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٥٨

O you who have believed, let those whom your right hands possess and those who have not [yet] reached puberty among you ask permission of you [before entering] at three times: before the dawn prayer and when you put aside your clothing [for rest] at noon and after the night prayer. [These are] three times of privacy1 for you. There is no blame upon you nor upon them beyond these [periods], for they continually circulate among you - some of you, among others. Thus does Allāh make clear to you the verses [i.e., His ordinances]; and Allāh is Knowing and Wise.

1 translator’s note
  1. Literally, "exposure" or "being uncovered." ↩
As-Sa'diTafsir · 24:58

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском