Al-FurqanJuz 19 · Page 362

Al-Furqan 25:21

The Criterion · Juz 19 · Page 362

۞ وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا ٢١

And those who do not expect the meeting with Us say, "Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?" They have certainly become arrogant within themselves1 and [become] insolent with great insolence.

1 translator’s note
  1. Additional meanings are "among themselves" and "over [the matter of] themselves." ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 25:21–23

اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، کیوں نہیں نازل کیے گئے ہم پر فرشتے؟ یادیکھتے ہم اپنے رب کو البتہ تحقیق تکبر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں اور سرکشی کی انھوں نے سرکشی بہت بڑی (21) جس دن وہ دیکھیں گے فرشتوں کو، نہیں ہو گی کوئی خوشخبری اس دن مجرموں کے لیے اور وہ (فرشتے) کہیں گے (بہشت تم پر) ممنوع ہے، حرام کر دی گئی ہے (22) اور قصد کریں گے ہم طرف اس کی جو کیے تھے انھوں نے کوئی (نیک) عمل، پس بنا دیں گے ہم ان کو مانند ذرات اڑائے ہوؤں کے (23)

[21] وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید… انھوں نے کہا:﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ نَرٰى رَبَّنَا﴾ یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو؟ رسول (ﷺ)کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ ﴿لَقَدِ اسۡتَكۡبَرُوۡا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اس قسم کے اعتراض كيے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اے محتاج اور بے بس لوگو! تم ہو کون، جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہو سکتا ہے؟ ﴿وَعَتَوۡ عُتُوًّا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے بڑی سرکشی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لیے نرم پڑتے تھے نہ خیرخواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لیے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انھوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انھوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیرخواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہو سکتی ہے؟ بنابریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہو گئے۔

[22]﴿ يَوۡمَ يَرَوۡنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ ’’جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔‘‘ جن کے نزول کا انھوں نے مطالبہ کیا تھا ﴿ لَا بُشۡرٰى يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جرم اور عناد پر جمے رہنے کی بنا پر فرشتوں کو صرف اس وقت دیکھیں گے جب وہ ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آئیں گے۔ پس یہ پہلا موقع ہو گا جب موت کے وقت ان پر فرشتے نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام: 6؍93) ’’کاش آپ ان ظالم مشرکوں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے جان قبض کرنے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہتے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں ، آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی یہ سزا اس پاداش میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ دوسرا موقع وہ ہے جب قبر میں ان کے پاس منکرنکیر آئیں گے، پس وہ ان سے ان کے رب، ان کے نبی اور ان کے دین کے بارے میں پوچھیں گے اور وہ کوئی ایسا جواب نہ دے پائیں گے جو ان کو عذاب سے نجات دلا سکے۔ پس ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہو گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیے جائیں گے۔تیسرا موقع وہ ہے جب قیامت کے روز فرشتے انھیں جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیں گے اور پھر ان کو جہنم کے فرشتوں کے حوالے کر دیں گے جو ان کو سزا اور عذاب دینے پر مقرر ہوں گے۔ پس یہی وہ چیز ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے جرائم پر جمے رہے تو لازمی طور پر اس کا سامنا کریں گے اور وہ اس وقت فرشتوں سے پناہ مانگیں گے، ان سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے لیے کوئی فرار کی راہ نہ ہو گی۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّؔحۡجُوۡرًا﴾ ’’اور وہ کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍23) ’’اے جن و انس کے گروہ! تمھیں زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جانے کی قدرت ہے تو نکل جاؤ، تم طاقت کے سوا نکل نہیں سکتے۔ ‘‘

[23]﴿ وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ ﴾ یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لیے انھوں نے مشقت اٹھائی ہے ﴿ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴾ ’’پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کر دیں گے۔‘‘ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کر دیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 362

Al-FurqanJuz 19 · Page 362

25:21

۞ وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا ٢١

And those who do not expect the meeting with Us say, "Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?" They have certainly become arrogant within themselves1 and [become] insolent with great insolence.

1 translator’s note
  1. Additional meanings are "among themselves" and "over [the matter of] themselves." ↩

25:22

يَوۡمَ يَرَوۡنَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ لَا بُشۡرَىٰ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُجۡرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا ٢٢

The day they see the angels1 - no good tidings will there be that day for the criminals, and [the angels] will say, "Prevented and inaccessible."2

2 translator’s notes
  1. i.e., at the time of death.

    [1015] Referring to any good tidings.

    ↩
  2. ↩

25:23

وَقَدِمۡنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُواْ مِنۡ عَمَلٖ فَجَعَلۡنَٰهُ هَبَآءٗ مَّنثُورًا ٢٣

And We will approach [i.e., regard]1 what they have done of deeds and make them as dust dispersed.

1 translator’s note
  1. On the Day of Judgement. ↩

25:24

أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ يَوۡمَئِذٍ خَيۡرٞ مُّسۡتَقَرّٗا وَأَحۡسَنُ مَقِيلٗا ٢٤

The companions of Paradise, that Day, are [in] a better settlement and better resting place.

25:25

وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلۡغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا ٢٥

And [mention] the Day when the heaven will split open with [emerging] clouds,1 and the angels will be sent down in successive descent.

1 translator’s note
  1. Within which are the angels. ↩

25:26

ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّ لِلرَّحۡمَٰنِۚ وَكَانَ يَوۡمًا عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ عَسِيرٗا ٢٦

True sovereignty, that Day, is for the Most Merciful. And it will be upon the disbelievers a difficult Day.

25:27

وَيَوۡمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيۡهِ يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي ٱتَّخَذۡتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلٗا ٢٧

And the Day the wrongdoer will bite on his hands [in regret] he will say, "Oh, I wish I had taken with the Messenger a way.1

1 translator’s note
  1. i.e., followed the Prophet (ﷺ) on a path of guidance. ↩

25:28

يَٰوَيۡلَتَىٰ لَيۡتَنِي لَمۡ أَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِيلٗا ٢٨

Oh, woe to me! I wish I had not taken that one1 as a friend.

1 translator’s note
  1. The person who misguided him. ↩

25:29

لَّقَدۡ أَضَلَّنِي عَنِ ٱلذِّكۡرِ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَنِيۗ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِلۡإِنسَٰنِ خَذُولٗا ٢٩

He led me away from the remembrance1 after it had come to me. And ever is Satan, to man, a deserter."2

2 translator’s notes
  1. i.e., the Qur’ān or the remembrance of Allāh.

    [1021] Forsaking him once he has led him into evil.

    ↩
  2. ↩

25:30

وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوۡمِي ٱتَّخَذُواْ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ مَهۡجُورٗا ٣٠

And the Messenger has said, "O my Lord, indeed my people have taken this Qur’ān as [a thing] abandoned."1

1 translator’s note
  1. i.e., avoiding it, not listening to or understanding it, not living by it, or preferring something else to it. ↩

25:31

وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا مِّنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيٗا وَنَصِيرٗا ٣١

And thus have We made for every prophet an enemy from among the criminals. But sufficient is your Lord as a guide and a helper.

25:32

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلۡقُرۡءَانُ جُمۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَۖ وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا ٣٢

And those who disbelieve say, "Why was the Qur’ān not revealed to him all at once?" Thus [it is] that We may strengthen thereby your heart. And We have spaced it distinctly.1

1 translator’s note
  1. Also, "recited it with distinct recitation." ↩
As-Sa'diTafsir · 25:21

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском