Ash-Shu'araJuz 19 · Page 375

Ash-Shu'ara 26:191

The Poets · Juz 19 · Page 375

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ١٩١

And indeed, your Lord - He is the Exalted in Might, the Merciful.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 26:176–191

جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)

[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔

[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔

[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔

[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 375

Ash-Shu'araJuz 19 · Page 375

26:184

وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٨٤

And fear He who created you and the former creation."1

1 translator’s note
  1. i.e., previous generations. ↩

26:185

قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ ١٨٥

They said, "You are only of those affected by magic.

26:186

وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ١٨٦

You are but a man like ourselves, and indeed, we think you are among the liars.

26:187

فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ١٨٧

So cause to fall upon us fragments of the sky, if you should be of the truthful."

26:188

قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨٨

He said, "My Lord is most knowing of what you do."

26:189

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ ١٨٩

And they denied him, so the punishment of the day of the black cloud seized them. Indeed, it was the punishment of a terrible day.

26:190

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ ١٩٠

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

26:191

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ١٩١

And indeed, your Lord - He is the Exalted in Might, the Merciful.

26:192

وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٩٢

And indeed, it [i.e., the Qur’ān] is the revelation of the Lord of the worlds.

26:193

نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ ١٩٣

The Trustworthy Spirit [i.e., Gabriel] has brought it down

26:194

عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ ١٩٤

Upon your heart, [O Muḥammad] - that you may be of the warners

26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ ١٩٥

In a clear Arabic language.

26:196

وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٩٦

And indeed, it is [mentioned] in the scriptures of former peoples.

26:197

أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ١٩٧

And has it not been a sign to them that it is recognized by the scholars of the Children of Israel?

26:198

وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ ١٩٨

And even if We had revealed it to one among the foreigners1

1 translator’s note
  1. i.e., the non-Arabs or those who are not fluent in the Arabic language. ↩

26:199

فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ ١٩٩

And he had recited it to them [perfectly],1 they would [still] not have been believers in it.

1 translator’s note
  1. As a miracle from Allāh. ↩

26:200

كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٢٠٠

Thus have We inserted it [i.e., disbelief] into the hearts of the criminals.

26:201

لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٢٠١

They will not believe in it until they see the painful punishment.

26:202

فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٢٠٢

And it will come to them suddenly while they perceive [it] not.

26:203

فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣

And they will say, "May we be reprieved?"

26:204

أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ ٢٠٤

So for Our punishment are they impatient?

26:205

أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ ٢٠٥

Then have you considered if We gave them enjoyment for years

26:206

ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ ٢٠٦

And then there came to them that which they were promised?

As-Sa'diTafsir · 26:191

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском