An-Naml 27:21
The Ant · Juz 19 · Page 378
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٢١
I will surely punish him with a severe punishment or slaughter him unless he brings me clear authorization."1
1 translator’s note
- i.e., a valid excuse. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 27:15–44
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
Page 378
27:14
وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٤
And they rejected them, while their [inner] selves were convinced thereof, out of injustice and haughtiness. So see how was the end of the corrupters.
27:15
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ عِلۡمٗاۖ وَقَالَا ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّنۡ عِبَادِهِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٥
And We had certainly given to David and Solomon knowledge, and they said, "Praise [is due] to Allāh, who has favored us over many of His believing servants."
27:16
وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَۖ وَقَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنطِقَ ٱلطَّيۡرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيۡءٍۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡمُبِينُ ١٦
And Solomon inherited David. He said, "O people, we have been taught the language of birds, and we have been given from all things. Indeed, this is evident bounty."
27:17
وَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ ١٧
And gathered for Solomon were his soldiers of the jinn and men and birds, and they were [marching] in rows
27:18
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ١٨
Until, when they came upon the valley of the ants, an ant said, "O ants, enter your dwellings that you not be crushed by Solomon and his soldiers while they perceive not."
27:19
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٩
So [Solomon] smiled, amused at her speech, and said, "My Lord, enable me1 to be grateful for Your favor which You have bestowed upon me and upon my parents and to do righteousness of which You approve. And admit me by Your mercy into [the ranks of] Your righteous servants."2
27:20
وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَالِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ ٢٠
And he took attendance of the birds and said, "Why do I not see the hoopoe - or is he among the absent?
27:21
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٢١
I will surely punish him with a severe punishment or slaughter him unless he brings me clear authorization."1
1 translator’s note
- i.e., a valid excuse. ↩
27:22
فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيدٖ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ وَجِئۡتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٖ يَقِينٍ ٢٢
But he [i.e., the hoopoe] stayed not long and said, "I have encompassed [in knowledge] that which you have not encompassed, and I have come to you from Sheba with certain news.
Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy