An-NamlJuz 20 · Page 383

An-Naml 27:65

The Ant · Juz 20 · Page 383

قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ ٦٥

Say, "None in the heavens and earth knows the unseen except Allāh, and they do not perceive when they will be resurrected."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 27:65–69

کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)

[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔

[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔

[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔

[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔

[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 383

An-NamlJuz 20 · Page 383

27:64

أَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٦٤

Is He [not best] who begins creation and then repeats it and who provides for you from the heaven and earth? Is there a deity with Allāh? Say, "Produce your proof, if you should be truthful."

27:65

قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ ٦٥

Say, "None in the heavens and earth knows the unseen except Allāh, and they do not perceive when they will be resurrected."

27:66

بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّنۡهَاۖ بَلۡ هُم مِّنۡهَا عَمُونَ ٦٦

Rather, their knowledge is arrested concerning the Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are, concerning it, blind.

27:67

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبٗا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخۡرَجُونَ ٦٧

And those who disbelieve say, "When we have become dust as well as our forefathers, will we indeed be brought out [of the graves]?

27:68

لَقَدۡ وُعِدۡنَا هَٰذَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٦٨

We have been promised this, we and our forefathers, before. This is not but legends of the former peoples."

27:69

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٦٩

Say, [O Muḥammad], "Proceed [i.e., travel] through the land and observe how was the end of the criminals."

27:70

وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُن فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ ٧٠

And grieve not over them or be in distress from what they conspire.

27:71

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٧١

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

27:72

قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي تَسۡتَعۡجِلُونَ ٧٢

Say, "Perhaps it is close behind you [i.e., very near] - some of that for which you are impatient.

27:73

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ ٧٣

And indeed, your Lord is the possessor of bounty for the people, but most of them are not grateful."

27:74

وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ ٧٤

And indeed, your Lord knows what their breasts conceal and what they declare.

27:75

وَمَا مِنۡ غَآئِبَةٖ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ ٧٥

And there is nothing concealed1 within the heaven and the earth except that it is in a clear Register.2

2 translator’s notes
  1. Literally, "absent [from the senses]."

    [1086] The Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ), which is with Allāh (subḥānahu wa taʿālā).

    ↩
  2. ↩

27:76

إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَكۡثَرَ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ٧٦

Indeed, this Qur’ān relates to the Children of Israel most of that over which they disagree.

As-Sa'diTafsir · 27:65

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском