Al-QasasJuz 20 · Page 392

Al-Qasas 28:57

The Stories · Juz 20 · Page 392

وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٧

And they [i.e., the Quraysh] say, "If we were to follow the guidance with you, we would be swept1 from our land." Have We not established for them a safe sanctuary to which are brought the fruits of all things as provision from Us? But most of them do not know.

1 translator’s note
  1. By the other Arab tribes. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 28:57–59

اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔

[58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔

[59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 392

Al-QasasJuz 20 · Page 392

28:51

۞ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ ٱلۡقَوۡلَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٥١

And We have [repeatedly] conveyed to them the word [i.e., the Qur’ān] that they might be reminded.

28:52

ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤۡمِنُونَ ٥٢

Those to whom We gave the Scripture before it - they1 are believers in it.

1 translator’s note
  1. i.e., the sincere believers among them. ↩

28:53

وَإِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلِهِۦ مُسۡلِمِينَ ٥٣

And when it is recited to them, they say, "We have believed in it; indeed, it is the truth from our Lord. Indeed we were, [even] before it, Muslims [i.e., submitting to Allāh]."

28:54

أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٥٤

Those will be given their reward twice for what they patiently endured and [because] they avert evil through good, and from what We have provided them they spend.

28:55

وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ ٥٥

And when they hear ill speech, they turn away from it and say, "For us are our deeds, and for you are your deeds. Peace will be upon you;1 we seek not the ignorant."

1 translator’s note
  1. This is not the Islāmic greeting of "Peace be upon you." Rather, it means "You are secure from being treated in a like manner by us." ↩

28:56

إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٥٦

Indeed, [O Muḥammad], you do not guide whom you like, but Allāh guides whom He wills. And He is most knowing of the [rightly] guided.

28:57

وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٧

And they [i.e., the Quraysh] say, "If we were to follow the guidance with you, we would be swept1 from our land." Have We not established for them a safe sanctuary to which are brought the fruits of all things as provision from Us? But most of them do not know.

1 translator’s note
  1. By the other Arab tribes. ↩

28:58

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۭ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ ٥٨

And how many a city have We destroyed that was insolent in its [way of] living, and those are their dwellings which have not been inhabited after them except briefly.1 And it is We who were the inheritors.

1 translator’s note
  1. By travelers seeking temporary shelter. The reference is to the ruins which were visible to the Quraysh during their journeys. ↩

28:59

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبۡعَثَ فِيٓ أُمِّهَا رَسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِي ٱلۡقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهۡلُهَا ظَٰلِمُونَ ٥٩

And never would your Lord have destroyed the cities until He had sent to their mother [i.e., principal city] a messenger reciting to them Our verses. And We would not destroy the cities except while their people were wrongdoers.

As-Sa'diTafsir · 28:57

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском