Al-Qasas 28:61
The Stories · Juz 20 · Page 393
أَفَمَن وَعَدۡنَٰهُ وَعۡدًا حَسَنٗا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعۡنَٰهُ مَتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ ٦١
Then is he whom We have promised a good promise which he will meet [i.e., obtain] like he for whom We provided enjoyment of worldly life [but] then he is, on the Day of Resurrection, among those presented [for punishment in Hell]?
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 28:60–61
اور جو کچھ بھی دیے گئے ہو تم کوئی چیز تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا اور اس کی زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت بہتر اور دیرپا ہے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (60) کیا پس وہ شخص کہ وعدہ کیا ہم نے اس سے وعدہ اچھا، پھر وہ ملنے والا ہے اس کو، اس شخص جیسا ہے کہ فائدہ دیا ہم نے اسے (کچھ)فائدہ زندگانیٔ دنیا کا ، پھر وہ دن قیامت کے ، حاضر کردہ لوگوں میں سے ہو گا (61)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں ، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ، جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً:سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں ، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں ۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لیے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم و اندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لیے فخروریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے پھر جلد ہی یہ دنیا زائل اور تمام کی تمام ختم ہو جاتی ہے اور اس دنیا سے محبت کرنے والا حسرت، ندامت، ناکامی اور حرماں نصیبی کے سوا اس دنیا سے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور ہر قسم کے تکدر سے محفوظ زندگی ﴿ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ اپنے اوصاف اور کمیت کے اعتبار سے بہتر ہے وہ زندگی دائمی، سرمدی اور ابدی ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم لوگوں میں عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم دونوں امور کے مابین موازنہ کر سکو کہ کون سی زندگی ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اور کون سی زندگی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ کی جائے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا باعث اس کی کم عقلی ہے۔
[61] بنابریں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقلوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ دنیا کو ترجیح دینے والوں کے انجام اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کے انجام کے مابین موازنہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ ﴾ ’’بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو‘‘ کیا وہ مومن جو آخرت کے لیے کوشاں ہے، اپنے رب کے وعدۂ ثواب یعنی جنت کے لیے عمل پیرا ہے جس میں بڑی بڑی نعمتیں عطا ہوں گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا کیونکہ یہ ایک کریم ہستی کی طرف سے کیا گیا وعدہ ہے جس کا وعدہ سچا ہوتا ہے، وہ اپنے اس بندے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی جو اس کی رضا پر چلتا ہے اور اس کو ناراض کرنے والے امور سے اجتناب کرتا ہے۔ ﴿ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیاوی زندگی کے سروسامان سے نوازا ہو‘‘ جو اس دنیا کو حاصل کرتا ہے وہ کھاتا پیتا اور اس سے یوں متمتع ہوتا ہے جیسے جانور متمتع ہوتے ہیں ؟ یہ شخص اپنی آخرت سے غافل ہو کر اپنی دنیا میں مشغول ہے اس نے ہدایت الٰہی کی کوئی پروا کی نہ انبیاء و مرسلین کی اطاعت کی۔ یہ اپنے اسی رویے پر جما ہوا ہے۔ اس دنیا سے اس نے جو کچھ زاد راہ سمیٹا ہے وہ ہلاکت اور خسارے کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں ہو جو حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی پھر حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بھلائی نہیں ، اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے لیے نقصان دہ ہے… کیا تم جانتے ہو اس کا کیا انجام ہو گا؟ اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا … عقل مند شخص کو وہی چیز اختیار کرنی چاہیے جو اختیار كيے جانے کی مستحق ہے اور اسی چیز کو ترجیح دینا چاہیے جو ترجیح دیے جانے کے قابل ہے۔
Page 393
28:60
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتُهَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٦٠
And whatever thing you [people] have been given - it is [only for] the enjoyment of worldly life and its adornment. And what is with Allāh is better and more lasting; so will you not use reason?
28:61
أَفَمَن وَعَدۡنَٰهُ وَعۡدًا حَسَنٗا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعۡنَٰهُ مَتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ ٦١
Then is he whom We have promised a good promise which he will meet [i.e., obtain] like he for whom We provided enjoyment of worldly life [but] then he is, on the Day of Resurrection, among those presented [for punishment in Hell]?
28:62
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ ٦٢
And [warn of] the Day He will call them and say, "Where are My 'partners' which you used to claim?"
28:63
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغۡوَيۡنَآ أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَاۖ تَبَرَّأۡنَآ إِلَيۡكَۖ مَا كَانُوٓاْ إِيَّانَا يَعۡبُدُونَ ٦٣
Those upon whom the word1 will have come into effect will say, "Our Lord, these are the ones we led to error. We led them to error just as we were in error. We declare our disassociation [from them] to You. They did not used to worship [i.e., obey] us."2
28:64
وَقِيلَ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ لَوۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ يَهۡتَدُونَ ٦٤
And it will be said, "Invoke your 'partners,'" and they will invoke them; but they will not respond to them, and they will see the punishment. If only they had followed guidance!
28:65
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبۡتُمُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٦٥
And [mention] the Day He will call them and say, "What did you answer the messengers?"
28:66
فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَنۢبَآءُ يَوۡمَئِذٖ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُونَ ٦٦
But the information1 will be unapparent to them that Day, so they will not [be able to] ask one another.
1 translator’s note
- By which they might invent lies or excuses. ↩
28:67
فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلۡمُفۡلِحِينَ ٦٧
But as for one who had repented, believed, and done righteousness, it is expected [i.e., promised by Allāh] that he will be among the successful.
28:68
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٦٨
And your Lord creates what He wills and chooses; not for them was the choice. Exalted is Allāh and high above what they associate with Him.
28:69
وَرَبُّكَ يَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ ٦٩
And your Lord knows what their breasts conceal and what they declare.
28:70
وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأُولَىٰ وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٧٠
And He is Allāh; there is no deity except Him. To Him is [due all] praise in the first [life] and the Hereafter. And His is the [final] decision, and to Him you will be returned.