Al-'AnkabutJuz 20 · Page 397

Al-'Ankabut 29:12

The Spider · Juz 20 · Page 397

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٢

And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins."1 But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.

1 translator’s note
  1. The phrase may also read: "and let us carry your sins," i.e., the responsibility for your sins. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 29:12–13

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، پیروی کرو تم ہمارے راستے کی اور چاہیے کہ اٹھالیں ہم تمھارے گناہ حالانکہ نہیں وہ اٹھانے والے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی، بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (12) اور البتہ ضرور اٹھائیں گے وہ اپنے بوجھ اور کئی بوجھ (دوسروں کے بھی) ساتھ اپنے بوجھوں کےاور البتہ ضرور پوچھے جائیں گے وہ دن قیامت کے ان باتوں کی بابت جو تھے وہ افتراباندھتے (13)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی بہتان طرازی اور اہل ایمان کو اپنے دین کی طرف ان کی دعوت کا ذکر کرتا ہے۔ اس ضمن میں اہل ایمان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کفار سے دھوکہ کھائیں نہ اس کی چالوں میں آئیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِيۡلَنَا ﴾ ’’اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو۔‘‘ یعنی اپنے دین یا دین کے کچھ حصے کو ترک کر دو اور ہمارے دین میں ہماری پیروی کرو ہم تمام معاملے کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔ ﴿ وَلۡنَحۡمِلۡ خَطٰيٰؔكُمۡ ﴾ ’’اور ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔‘‘ حالانکہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَمَا هُمۡ بِحٰؔمِلِيۡنَ مِنۡ خَطٰيٰؔهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں ۔‘‘ یعنی وہ کم یا زیادہ، کچھ بھی خطائیں اپنے اوپر نہیں لے سکتے۔ خطاؤں کو اپنے ذمے لینے والا خواہ راضی ہی کیوں نہ ہوں ، وہ کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے حکم کے بغیر اپنے حق میں تصرف کی اجازت نہیں دیتا اور اس کا حکم:﴿ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى﴾(النجم:53؍38) ’’کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ کے اصول پر مبنی ہے۔

[13] چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَمَا هُمۡ بِحٰؔمِلِيۡنَ مِنۡ خَطٰيٰؔهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ سے یہ وہم بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان کو کفر وغیرہ کی طرف دعوت دینے کا کفار کو صرف وہی گناہ ہوگا جس کا انھوں نے ارتکاب کیا دوسروں کے گناہوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں خواہ وہ دوسروں کے گناہوں کا سبب ہی کیوں نہ بنے ہوں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَيَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔‘‘ یعنی اپنے ان گناہوں کا بوجھ جن کا انھوں نے ارتکاب کیا ﴿ وَاَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِهِمۡ﴾ ’’اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی (اٹھائیں گے)۔‘‘ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو ان کے سبب سے اور ان کی جسارت کی بنا پر ان کے اعمال نامے میں لکھے گئے۔وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتا ہے اس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے تابع کا حصہ اس لیے ہے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لیے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔ بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو نیکی کرنے والے کو اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔﴿ وَلَيُسۡئَلُنَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بری بات گھڑی ہے پھر اس کو آراستہ کیا ہے، نیز ان سے ان کے اس قول:﴿ وَلۡنَحۡمِلۡ خَطٰيٰؔكُمۡ﴾ ’’ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔‘‘ کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 397

Al-'AnkabutJuz 20 · Page 397

29:7

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٧

And those who believe and do righteous deeds - We will surely remove from them their misdeeds and will surely reward them according to the best of what they used to do.

29:8

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨

And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge,1 do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.

1 translator’s note
  1. i.e., no knowledge of its divinity. There can be no knowledge about something which is non-existent or untrue. ↩

29:9

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّٰلِحِينَ ٩

And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].

29:10

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ وَلَئِن جَآءَ نَصۡرٞ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡۚ أَوَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٠

And of the people are some who say, "We believe in Allāh," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allāh, he considers the trial [i.e., harm] of the people as [if it were] the punishment of Allāh. But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allāh most knowing of what is within the breasts of the worlds [i.e., all creatures]?

29:11

وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ ١١

And Allāh will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.

29:12

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٢

And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins."1 But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.

1 translator’s note
  1. The phrase may also read: "and let us carry your sins," i.e., the responsibility for your sins. ↩

29:13

وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ١٣

But they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens,1 and they will surely be questioned on the Day of Resurrection about what they used to invent.

1 translator’s note
  1. Besides their own sins, they will carry those of the people they misled, although it will not lessen the burden of the latter. ↩

29:14

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤

And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.

As-Sa'diTafsir · 29:12

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском