Al-'Ankabut 29:14
The Spider · Juz 20 · Page 397
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤
And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 29:14–15
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف، پس ٹھہرا رہا وہ ان میں ہزار سال مگر پچاس سال (کم) پھر پکڑ لیا ان کو طوفان نے اس حال میں کہ وہ ظالم تھے (14) پس نجات دی ہم نے اس کو اور کشتی والوں کواور بنا دیا ہم نے اس (کشتی) کو (عظیم) نشانی جہانوں کے لیے (15)
[14] اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوحu کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ ﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾ ’’پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے‘‘ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیرخواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے مگر وہ رشدوہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی حضرت نوحu نے اپنے بے انتہا صبر، حلم اور تحمل کے باوجود ان کے لیے ان الفاظ میں بددعا کی:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا ﴾(نوح:71؍26)’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو بستا نہ چھوڑ۔‘‘﴿ فَاَخَذَهُمُ الطُّوۡفَانُ ﴾ ’’پس ان کو طوفان نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ان کو اس پانی نے (طوفان کی صورت میں ) آ لیا جو بہت کثرت سے آسمان سے برسا تھا اور نہایت شدت سے زمین سے پھوٹا تھا۔ ﴿ وَهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’ اور وہ ظالم تھے‘‘ اور اس عذاب کے مستحق تھے۔
[15]﴿ فَاَنۡؔجَيۡنٰهُ وَاَصۡحٰؔبَ السَّفِيۡنَةِ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے، یعنی ان کے گھر والے اور ان پر ایمان لانے والے دیگر لوگ ﴿وَجَعَلۡنٰهَاۤ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی کشتی کو یا قصۂ نوح کو ﴿ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’تمام جہانوں کے لیے نشانی‘‘ جس سے لوگ عبرت پکڑتے ہیں کہ جو کوئی اپنے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اس کا انجام ہلاکت ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر غم سے نجات دیتا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے کشتی کو … یعنی کشتی کی جنس کو، تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا جسے وہ اپنے رب کی رحمت سے تعبیر کرتے ہیں ، جس نے ان کے لیے اس کے اسباب مہیا كيے اور اس کے معاملے کو ان کے لیے آسان بنایا اور وہ انھیں ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک اٹھائے پھرتی ہے۔
Page 397
29:7
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٧
And those who believe and do righteous deeds - We will surely remove from them their misdeeds and will surely reward them according to the best of what they used to do.
29:8
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨
And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge,1 do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.
1 translator’s note
- i.e., no knowledge of its divinity. There can be no knowledge about something which is non-existent or untrue. ↩
29:9
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّٰلِحِينَ ٩
And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].
29:10
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ وَلَئِن جَآءَ نَصۡرٞ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡۚ أَوَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٠
And of the people are some who say, "We believe in Allāh," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allāh, he considers the trial [i.e., harm] of the people as [if it were] the punishment of Allāh. But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allāh most knowing of what is within the breasts of the worlds [i.e., all creatures]?
29:11
وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ ١١
And Allāh will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.
29:12
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٢
And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins."1 But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.
1 translator’s note
- The phrase may also read: "and let us carry your sins," i.e., the responsibility for your sins. ↩
29:13
وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ١٣
But they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens,1 and they will surely be questioned on the Day of Resurrection about what they used to invent.
1 translator’s note
- Besides their own sins, they will carry those of the people they misled, although it will not lessen the burden of the latter. ↩
29:14
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤
And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.