Al-'AnkabutJuz 20 · Page 399

Al-'Ankabut 29:26

The Spider · Juz 20 · Page 399

۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٞۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٦

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 29:26–27

پس ایمان لایا ابراہیم پر لوط اور کہا ابراہیم نے، بے شک میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے رب کی طرف، بلاشبہ وہ ہے نہایت غالب، خوب حکمت والا (26) اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق او ر یعقوب اور رکھ دی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اورکتاب اور دیا ہم نے اس کو اس کا اجر (صلہ) دنیا میں اور بلاشبہ وہ آخرت میں البتہ نیک لوگوں میں سے ہوگا (27)

[26] ابراہیمu اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوطu کے جو ابراہیمu کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوطu کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے ﴿ اِنِّيۡ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ برے خطۂ ارض کو چھوڑ کر بابرکت سرزمین کی طرف نکل گئے … اس سے مراد ملک شام ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک وہ بڑا ہی غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو قوت کا مالک ہے تمھیں ہدایت دینے پر قادر ہے لیکن وہ حکمت والا ہے‘‘ اور اس کی حکمت ایسا کرنے کی مقتضی نہیں ۔جب ابراہیمu اپنی قوم کو اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو ہلاک کر دیا تھا بلکہ صرف یہ ذکر فرمایا کہ آپ وہاں سے ہجرت کر گئے ور اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ رہا وہ قصہ جو اسرائیلیات میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کی قوم پر مچھروں کا دروازہ کھول دیا۔ وہ ان کا خون پی گئے، گوشت کھا گئے اور ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے دلیل پر توقف کرنا چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو ضرور اس کا ذکر فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے والی امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔مگر کیا اس قصہ کا یہ راز تو نہیں کہ حضرت خلیلu مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق، سب سے زیادہ افضل، سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی قوم کے لیے بددعا نہیں کی جیسے دیگر بعض انبیائے کرام نے بددعا کی اور نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا… اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تو آپ نے قوم لوط کی مدافعت کے لیے ان فرشتوں سے جھگڑا کیا حالانکہ وہ آپ کی قوم نہ تھی۔ اصل صورت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

[27]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب (i) دیے۔‘‘ یعنی آپ کے ملک شام کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ ﴾’’اور کردی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب۔‘‘ آپ کے بعد جو بھی نبی مبعوث ہوا وہ آپ کی اولاد سے تھا اور جو بھی کتاب نازل ہوئی وہ آپ کی اولاد پر نازل ہوئی حتیٰ کہ انبیاء کا سلسلہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کے ذریعے سے ختم کر دیا گیا۔ یہ اعلیٰ ترین مناقب و مفاخر ہیں کہ ہدایت و رحمت، سعادت و فلاح اور کامیابی کا مواد آپ کی ذریت میں ہو، نیز اہل ایمان اور صالحین آپ کی اولاد کے ہاتھوں پر ایمان لائے اور انھوں نے آپ کی ذریت کے ذریعے سے ہدایت پائی۔﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ اَجۡرَهٗ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو نہایت خوبصورت بیوی عطا کی جو حسن و جمال میں تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی تھی، ہم نے آپ کو وسیع رزق اور اولاد سے سرفراز کیا جن سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی معرفت، محبت اور انابت سے نوازا۔ ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔‘‘ بلکہ آپ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب زیادہ صالح اور سب سے زیادہ بلند منزلت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت کو جمع کر دیا تھا۔

گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیمu کے بھتیجے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ ﴾ اگرچہ عام ہے مگر حضرت لوطu کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیلu کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوطu ابراہیم u کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے اور جس شخص نے آپ کے ہاتھ پر ہدایت پائی وہ ہادی کی فضیلت کی طرف نسبت کی بنا پر آپ کی اولاد میں سے ہدایت پانے والے سے زیادہ کامل ہے۔ واللہ اعلم۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 399

Al-'AnkabutJuz 20 · Page 399

29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱقۡتُلُوهُ أَوۡ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٢٤

And the answer of his [i.e., Abraham's] people was not but that they said, "Kill him or burn him," but Allāh saved him from the fire. Indeed in that are signs for a people who believe.

29:25

وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا وَمَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٥

And [Abraham] said, "You have only taken, other than Allāh, idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers."

29:26

۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٞۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٦

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

29:27

وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَجۡرَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٢٧

And We gave to him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.

29:28

وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٨

And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.

29:29

أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقۡطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأۡتُونَ فِي نَادِيكُمُ ٱلۡمُنكَرَۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٢٩

Indeed, you approach men and obstruct the road1 and commit in your meetings [every] evil." And the answer of his people was not but that they said, "Bring us the punishment of Allāh, if you should be of the truthful."

1 translator’s note
  1. i.e., commit highway robbery and acts of aggression against travelers. ↩

29:30

قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٣٠

He said, "My Lord, support me against the corrupting people."

As-Sa'diTafsir · 29:26

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском