Ali 'Imran 3:100
Family of Imran · Juz 4 · Page 62
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ كَٰفِرِينَ ١٠٠
O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:100–101
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اطاعت کرو گے ایک فریق کی ان لوگوں میں سے جو دیے گئے کتاب، تو لوٹا (بنا) دیں گے وہ تمھیں بعد تمھارے ایمان کے کفر کرنے والے(100) اور کیسے کفر کرو گے تم جب کہ تلاوت کی جاتی ہیں تم پر آیتیں اللہ کی اور تمھارے اندر اس کا رسول (موجود) ہے؟ اور جو مضبوط پکڑ لے اللہ (کے دین) کو، تو تحقیق ہدایت دیا گیا وہ طرف سیدھے راستے کی(101)
[101,100] چنانچہ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡؔكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمھیں، تمھارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔‘‘ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمھیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا١ۖ ۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّ ﴾(البقرۃ:2؍109)’ ’اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے ، محض حسد و بغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھر جانا انتہائی ناممکن ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيۡكُمۡ رَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔‘‘ یعنی رسول تمھارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمھیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائش نہیں۔ خاص طورپر اس لیے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان(محمدﷺ)ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود و سلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی۔ اور نیکی کے کسی طلب گار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پرتوکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لیے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیرکے لیے اس سے مدد طلب کرے ﴿فَقَدۡ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی‘‘ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہﷺکے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔
Page 62
3:92
لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ ٩٢
Never will you attain the good [reward]1 until you spend [in the way of Allāh] from that which you love. And whatever you spend - indeed, Allāh is Knowing of it.
1 translator’s note
- Another meaning is "You will never attain righteousness." ↩
3:93
۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٣
All food was lawful to the Children of Israel except what Israel [i.e., Jacob] had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muḥammad], "So bring the Torah and recite it, if you should be truthful."
3:94
فَمَنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩٤
And whoever invents about Allāh untruth after that - then those are [truly] the wrongdoers.
3:95
قُلۡ صَدَقَ ٱللَّهُۗ فَٱتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٩٥
Say, "Allāh has told the truth. So follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of the polytheists."1
1 translator’s note
- See footnote to 3:67 ↩
3:96
إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩٦
Indeed, the first House [of worship] established for mankind was that at Bakkah [i.e., Makkah] - blessed and a guidance for the worlds.
3:97
فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ مَّقَامُ إِبۡرَٰهِيمَۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩٧
In it are clear signs [such as] the standing place of Abraham. And whoever enters it [i.e., the Ḥaram] shall be safe. And [due] to Allāh from the people is a pilgrimage to the House - for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves [i.e., refuses] - then indeed, Allāh is free from need of the worlds.1
1 translator’s note
- He has no need for His servants' worship; it is they who are in need of Him. ↩
3:98
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعۡمَلُونَ ٩٨
Say, "O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allāh while Allāh is Witness over what you do?"
3:99
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ تَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَأَنتُمۡ شُهَدَآءُۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٩٩
Say, "O People of the Scripture, why do you avert from the way of Allāh those who believe, seeking to make it [seem] deviant, while you are witnesses [to the truth]? And Allāh is not unaware of what you do."
3:100
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ كَٰفِرِينَ ١٠٠
O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.