Ali 'Imran 3:152
Family of Imran · Juz 4 · Page 69
وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٥٢
And Allāh had certainly fulfilled His promise to you when you were killing them [i.e., the enemy] by His permission until [the time] when you lost courage and fell to disputing about the order [given by the Prophet (ﷺ)] and disobeyed after He had shown you that which you love.1 Among you are some who desire this world, and among you are some who desire the Hereafter. Then He turned you back from them [defeated] that He might test you. And He has already forgiven you, and Allāh is the possessor of bounty for the believers.
1 translator’s note
- i.e., the spoils of war. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:152
اور تحقیق سچا کر دکھایا تم سے اللہ نے اپنا وعدہ جب کاٹتے تھے تم ان کو ساتھ اس کے حکم کے، یہاں تک کہ جب تم پست ہمت ہوگئے اور باہم جھگڑا کیا تم نے حکم (رسول) میں اور نافرمانی کی تم نے بعد اس کے کہ دکھلایا اس نے تم کو وہ جسے تم پسند کرتے تھے، تم میں سے بعض وہ ہیں جو ارادہ کرتے تھے دنیا کا اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو ارادہ کرتے تھے آخرت کا۔ ، پھر پھیر دیا اللہ نے تم کو ان (کافروں) سے تاکہ آزمائے وہ تمھیں اور البتہ تحقیق معاف کر دیا اس نے تم کو اور اللہ فضل والا ہے اوپر مومنوں کے(152)
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کر دیا، پس تمھیں کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمھیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کر دیں یہاں تک کہ تم خود اپنے لیے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہو گئے ﴿وَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑ گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہﷺنے ہمیں متعین فرمایا ہے اور کسی نے کہا، اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا کام؟ جبکہ دشمن شکست کھا چکا اور کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔پس تم نے رسولﷺکی نافرمانی کی اور آپ کے حکم کو چھوڑ دیا ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىكُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ﴾ ’’بعد اس کے، جب اللہ نے تمھیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے‘‘ اور وہ تھی تمھارے دشمن کی ناکامی اور شکست۔ اس لیے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز سے نواز دے، جو اسے پسند ہو، اس پر دوسرے کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ نافرمانی سے بچے۔ پس خاص طور پر اس حال میں اور عام طور پر ہر حال میں اس پر اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔ ﴿مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا ﴿وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ﴾’’اور بعض تم میں سے آخرت چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہﷺکے حکم کا التزام کیا اور جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ثابت قدم رہے۔﴿ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’پھر تم کو پھیر دیا ان سے‘‘ یعنی جب یہ تمام امور تم میں پائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے مقابلے میں پھیر کر بھگا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھاری آزمائش اور تمھارے امتحان کے طور پر جیت دشمن کے ہاتھ رہی۔ تاکہ مومن اور کافر، فرمانبردار اور نافرمان کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ اور تاکہ تم سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے اس مصیبت کے ذریعے سے تمھیں معاف کردے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس نے تمھیں معاف کر دیا اور اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے‘‘ یعنی وہ ان پر بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے کیونکہ اس نے انھیں اسلام سے نوازا، اپنے احکام کی طرف راہنمائی کی، ان کے گناہوں کو معاف کر دیا اور ان کے مصائب پر ان کو اجر عطا کیا۔یہ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ جو بھلائی یا مصیبت ان کے لیے مقدر کرتا ہے وہ بھی ان کے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اگر انھیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں شکر گزاروں کی جزا دیتا ہے۔ اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ انھیں صبر کرنے والوں کے ثواب سے نوازتا ہے۔
Page 69
3:149
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ ١٤٩
O you who have believed, if you obey those who disbelieve, they will turn you back on your heels, and you will [then] become losers.
3:150
بَلِ ٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلنَّٰصِرِينَ ١٥٠
But Allāh is your protector, and He is the best of helpers.
3:151
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلظَّٰلِمِينَ ١٥١
We will cast terror into the hearts of those who disbelieve for what they have associated with Allāh of which He had not sent down [any] authority.1 And their refuge will be the Fire, and wretched is the residence of the wrongdoers.
1 translator’s note
- i.e., clear evidence. ↩
3:152
وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٥٢
And Allāh had certainly fulfilled His promise to you when you were killing them [i.e., the enemy] by His permission until [the time] when you lost courage and fell to disputing about the order [given by the Prophet (ﷺ)] and disobeyed after He had shown you that which you love.1 Among you are some who desire this world, and among you are some who desire the Hereafter. Then He turned you back from them [defeated] that He might test you. And He has already forgiven you, and Allāh is the possessor of bounty for the believers.
1 translator’s note
- i.e., the spoils of war. ↩
3:153
۞ إِذۡ تُصۡعِدُونَ وَلَا تَلۡوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٖ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ فِيٓ أُخۡرَىٰكُمۡ فَأَثَٰبَكُمۡ غَمَّۢا بِغَمّٖ لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُواْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمۡۗ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٥٣
[Remember] when you [fled and] climbed [the mountain] without looking aside at anyone while the Messenger was calling you from behind. So Allāh repaid you with distress upon distress so you would not grieve for that which had escaped you [of victory and spoils of war] or [for] that which had befallen you [of injury and death]. And Allāh is [fully] Aware of what you do.