Ali 'ImranJuz 4 · Page 71

Ali 'Imran 3:165

Family of Imran · Juz 4 · Page 71

أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٦٥

Why [is it that] when a [single] disaster struck you [on the day of Uḥud], although you had struck [the enemy in the battle of Badr] with one twice as great, you said, "From where is this?" Say, "It is from yourselves [i.e., due to your sin]." Indeed, Allāh is over all things competent.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 3:165–168

کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)

[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘

[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔

[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 71

Ali 'ImranJuz 4 · Page 71

3:158

وَلَئِن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ ١٥٨

And whether you die or are killed, unto Allāh you will be gathered.

3:159

فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ ١٥٩

So by mercy from Allāh, [O Muḥammad], you were lenient with them. And if you had been rude [in speech] and harsh in heart, they would have disbanded from about you. So pardon them and ask forgiveness for them and consult them in the matter. And when you have decided, then rely upon Allāh. Indeed, Allāh loves those who rely [upon Him].

3:160

إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١٦٠

If Allāh should aid you, no one can overcome you; but if He should forsake you, who is there that can aid you after Him? And upon Allāh let the believers rely.

3:161

وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ١٦١

It is not [attributable] to any prophet that he would act unfaithfully [in regard to war booty]. And whoever betrays, [taking unlawfully], will come with what he took on the Day of Resurrection. Then will every soul be [fully] compensated for what it earned, and they will not be wronged.

3:162

أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٦٢

So is one who pursues the pleasure of Allāh like one who brings upon himself the anger of Allāh and whose refuge is Hell? And wretched is the destination.

3:163

هُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ١٦٣

They are [varying] degrees in the sight of Allāh, and Allāh is Seeing of whatever they do.

3:164

لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ ١٦٤

Certainly did Allāh confer [great] favor upon the believers when He sent among them a Messenger from themselves, reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom,1 although they had been before in manifest error.

1 translator’s note
  1. The Prophet's sunnah. ↩

3:165

أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٦٥

Why [is it that] when a [single] disaster struck you [on the day of Uḥud], although you had struck [the enemy in the battle of Badr] with one twice as great, you said, "From where is this?" Say, "It is from yourselves [i.e., due to your sin]." Indeed, Allāh is over all things competent.

As-Sa'diTafsir · 3:165

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском