Ali 'ImranJuz 4 · Page 75

Ali 'Imran 3:188

Family of Imran · Juz 4 · Page 75

لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحۡمَدُواْ بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُواْ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٖ مِّنَ ٱلۡعَذَابِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٨٨

And never think that those who rejoice in what they have perpetrated and like to be praised for what they did not do - never think them [to be] in safety from the punishment, and for them is a painful punishment.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 3:187–188

اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)

[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔

[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انھوں نے رسولﷺکی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق پر اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریااور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکوکاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیمuنے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾(الشعراء:26؍84) ’’اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾(الصافات : 37؍79، 80) ’’تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾(الفرقان:25؍74) ’’اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔‘‘ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 75

Ali 'ImranJuz 4 · Page 75

3:187

وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ ١٨٧

And [mention, O Muḥammad], when Allāh took a covenant from those who were given the Scripture, [saying], "You must make it clear [i.e., explain it] to the people and not conceal it." But they threw it away behind their backs and exchanged it for a small price. And wretched is that which they purchased.

3:188

لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحۡمَدُواْ بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُواْ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٖ مِّنَ ٱلۡعَذَابِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٨٨

And never think that those who rejoice in what they have perpetrated and like to be praised for what they did not do - never think them [to be] in safety from the punishment, and for them is a painful punishment.

3:189

وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١٨٩

And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allāh is over all things competent.

3:190

إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٩٠

Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding -

3:191

ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٩١

Who remember Allāh while standing or sitting or [lying] on their sides and give thought to the creation of the heavens and the earth, [saying], "Our Lord, You did not create this aimlessly; exalted are You [above such a thing]; then protect us from the punishment of the Fire.

3:192

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ ١٩٢

Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire - You have disgraced him, and for the wrongdoers there are no helpers.

3:193

رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ ١٩٣

Our Lord, indeed we have heard a caller [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] calling to faith, [saying], 'Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die among the righteous.

3:194

رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ١٩٤

Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise."

As-Sa'diTafsir · 3:188

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском