Ali 'ImranJuz 3 · Page 50

Ali 'Imran 3:2

Family of Imran · Juz 3 · Page 50

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ ٢

Allāh - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Self-Sustaining.1

1 translator’s note
  1. See footnotes to 2:255. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 3:1–6

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)

اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔

[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔

[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘

[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 50

Ali 'ImranJuz 3 · Page 50

سورة آل عمران

Ali 'Imran

Family of Imran · Medinan · 200 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

3:1

الٓمٓ ١

Alif, Lām, Meem.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

3:2

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ ٢

Allāh - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Self-Sustaining.1

1 translator’s note
  1. See footnotes to 2:255. ↩

3:3

نَزَّلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ ٣

He has sent down upon you, [O Muḥammad], the Book in truth, confirming what was before it. And He revealed the Torah and the Gospel

3:4

مِن قَبۡلُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلۡفُرۡقَانَۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ ٤

Before, as guidance for the people. And He revealed the Criterion [i.e., the Qur’ān]. Indeed, those who disbelieve in the verses of Allāh will have a severe punishment, and Allāh is Exalted in Might, the Owner of Retribution.1

1 translator’s note
  1. i.e., He who restores justice by punishing those who persist in wrongdoing, fail to heed warnings and are unrepentant. ↩

3:5

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخۡفَىٰ عَلَيۡهِ شَيۡءٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٥

Indeed, from Allāh nothing is hidden in the earth nor in the heaven.

3:6

هُوَ ٱلَّذِي يُصَوِّرُكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٦

It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

3:7

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٧

It is He who has sent down to you, [O Muḥammad], the Book; in it are verses [that are] precise - they are the foundation of the Book - and others unspecific.1 As for those in whose hearts is deviation [from truth], they will follow that of it which is unspecific, seeking discord and seeking an interpretation [suitable to them]. And no one knows its [true] interpretation except Allāh. But those firm in knowledge say, "We believe in it. All [of it] is from our Lord." And no one will be reminded except those of understanding,

1 translator’s note
  1. Those which are stated in such a way that they are open to more than one interpretation or whose meaning is known only to Allāh, such as the opening letters of certain sūrahs. ↩

3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٨

[Who say], "Our Lord, let not our hearts deviate after You have guided us and grant us from Yourself mercy. Indeed, You are the Bestower.1

1 translator’s note
  1. Who gives and grants continually without being asked. ↩

3:9

رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ٩

Our Lord, surely You will gather the people for a Day about which there is no doubt. Indeed, Allāh does not fail in His promise."

As-Sa'diTafsir · 3:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском