Ali 'Imran 3:28
Family of Imran · Juz 3 · Page 53
لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨
Let not believers take disbelievers as allies [i.e., supporters or protectors] rather than believers. And whoever [of you] does that has nothing [i.e., no association] with Allāh, except when taking precaution against them in prudence.1 And Allāh warns you of Himself, and to Allāh is the [final] destination.
1 translator’s note
- When fearing harm from an enemy, the believer may pretend as long as his heart and intention are not affected. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:28
نہ بنائیں مومن کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے،اور جو کوئی کرے گا یہ تو نہیں ہے اسے اللہ سے کوئی تعلق، مگر اس لیے کہ چاہو تم ان (کے شر) سے بچنا،اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ اپنی ذات سے،اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (28)
[28] اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں ، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ ﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کرکے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کاحکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ ﴾(التوبۃ:9؍71)’’ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی (مددگار، محبت رکھنے والے) ہیں۔‘‘ جو شخص مومنوں کو چھوڑ کر ان کافروں سے دوستی لگاتا ہے جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے اولیاء کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں، ایسا شخص مومنوں کی جماعت سے نکل جاتا ہے اور کافروں کی جماعت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍51)’’تم میں سے جو کوئی ان سے محبت رکھے گا، وہ انھی میں سے ہوگا‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں سے ان کے ساتھ میل جول رکھنے سے، ان سے دوستی لگانے سے ان کی طرف میلان رکھنے سے بچنا ضروری ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔ عام مسلمانوں کے فائدے کے کسی کام میں ان سے مدد نہیں لی جاسکتی۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰىةً ﴾ ’’مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح کا بچاؤ مقصود ہو۔‘‘ یعنی اگر تمھیں ان سے جان کا خطرہ ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے زبان سے تقیہ کرسکتے ہو، اور ظاہری طورپر ایسا کام کرسکتے ہو جس سے تقیہ ہوجاتا ہے۔( تحقیق شدہ نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے۔ امام ابن تیمیہ aنے ’’المنہاج‘‘ میں فرمایا ہے: اللہ کا یہ فرمان: ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰىةً﴾ اس کے بارے میں حضرت مجاہد aنے فرمایا ہے: (لامصانعۃ) ’’ان کا ساتھ نہ دو۔‘‘ تقیہ یہ نہیں ہوتا کہ میں جھوٹ بولوں اور زبان سے وہ بات کہوں جو میرے دل میں نہیں، یہ تو منافقت ہے۔ بلکہ مجھے چاہیے کہ نبیﷺ کے ارشاد کے مطابق جو کچھ کرسکوں کروں۔ ارشاد نبویﷺ ہے: ’’تم میں سے جو کچھ کوئی برائی دیکھے،تو اسے ہاتھ سے تبدیل (اور ختم) کردے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے)۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت رکھے)۔‘‘ لہٰذا مومن جب کافروں اور بدکاروں میں گھر جائے تو کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ سے جہاد کرنا فرض نہیں۔ اگر زبان سے منع کرسکے تو ضرور کرے ورنہ دل سے نفرت رکھے۔ ان تمام درجات میں وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ زبان سے وہ بات نہیں کہے گا، جو اس کے دل میں نہیں۔ وہ یا تو اپنا دین ظاہر کرے گا، یا چھپائے گا۔ لیکن کسی بھی حال میں ان کے مذہب کی تائید نہیں کرے گا۔ زیادہ سے زیادہ وہ مومن آل فرعون کا، یازوجہ فرعون کا سا طرز عمل اختیار کرسکتا ہے۔ وہ مومن ان کے دین کی تائید نہیں کرتا تھا، نہ جھوٹ بولتا تھا، نہ زبان سے وہ بات کہتا تھا جو اس کے دل میں نہیں، بلکہ اپنے دین کو چھپائے ہوئے تھا۔ دین کو چھپانا اور چیز ہے اور باطل دین کا اظہار بالکل دوسری چیز ہے۔ اللہ نے اس چیز کی بالکل اجازت نہیں دی۔ صرف اسے اجازت دی ہے جسے کلمۂ کفر کہنے پر زبردستی مجبور کردیا جائے…‘‘۔ الخ) ﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھیں خود اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کی نافرمانی کرکے اس کی ناراضی مول نہ لو۔ ورنہ وہ تمھیں اس کی سزا دے گا۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
Page 53
3:23
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٣
Do you not consider, [O Muḥammad], those who were given a portion of the Scripture? They are invited to the Scripture of Allāh that it should arbitrate between them;1 then a party of them turns away, and they are refusing.
1 translator’s note
- Referring to the Jews of Madīnah who refused to implement the rulings given by Allāh in the Torah or to acknowledge the Prophet (ﷺ), whose coming was mentioned therein. ↩
3:24
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢٤
That is because they say, "Never will the Fire touch us except for [a few] numbered days," and [because] they were deluded in their religion by what they were inventing.
3:25
فَكَيۡفَ إِذَا جَمَعۡنَٰهُمۡ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٢٥
So how will it be when We assemble them for a Day about which there is no doubt? And each soul will be compensated [in full for] what it earned, and they will not be wronged.
3:26
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِي ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُۖ بِيَدِكَ ٱلۡخَيۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٦
Say, "O Allāh, Owner of Sovereignty, You give sovereignty to whom You will and You take sovereignty away from whom You will. You honor whom You will and You humble whom You will. In Your hand1 is [all] good. Indeed, You are over all things competent.
1 translator’s note
- See footnote to 2:19. ↩
3:27
تُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۖ وَتُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَتُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّۖ وَتَرۡزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٢٧
You cause the night to enter the day, and You cause the day to enter the night; and You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living. And You give provision to whom You will without account [i.e., limit or measure]."
3:28
لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨
Let not believers take disbelievers as allies [i.e., supporters or protectors] rather than believers. And whoever [of you] does that has nothing [i.e., no association] with Allāh, except when taking precaution against them in prudence.1 And Allāh warns you of Himself, and to Allāh is the [final] destination.
1 translator’s note
- When fearing harm from an enemy, the believer may pretend as long as his heart and intention are not affected. ↩
3:29
قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٩
Say, "Whether you conceal what is in your breasts or reveal it, Allāh knows it. And He knows that which is in the heavens and that which is on the earth. And Allāh is over all things competent.