Ali 'Imran 3:75
Family of Imran · Juz 3 · Page 59
۞ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٥
And among the People of the Scripture is he who, if you entrust him with a great amount [of wealth], he will return it to you. And among them is he who, if you entrust him with a [single] coin, he will not return it to you unless you are constantly standing over him [demanding it]. That is because they say, "There is no blame upon us concerning the unlearned."1 And they speak untruth about Allāh while they know [it].
1 translator’s note
- The Jews do not consider it a sin to cheat or lie to a gentile or a pagan. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:75–76
اور بعض اہل کتاب میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک ڈھیر(سونے چاندی کا) تو بھی وہ ادا کر دیں گے آپ کو،اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک دینار، تو نہیں ادا کریں گے وہ آپ کو، مگر (یہ کہ) آپ ہمیشہ رہیں ان (کے سر) پر کھڑے، یہ بہ سبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، نہیں ہے ہم پر امیوں (عربوں) کے بارے میں کوئی گناہ اور کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ اور وہ جانتے ہیں(75) کیوں نہیں؟ جو شخص پورا کرے اپنا عہداور (اللہ سے) ڈرے، تو بلاشبہ اللہ محبت کرتا ہے متقی لوگوں سے(76)
[75] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ﴿ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ ﴾ ’’تو اگر انھیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے۔‘‘ ﴿ يُّؤَدِّهٖۤ ﴾ ’’تو بھی وہ تجھے واپس کردیں۔‘‘ اور اس سے کم تر تو بالاولیٰ واپس کریں گے، اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ ﴿مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اگر تو انھیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔‘‘ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولیٰ انکار کریں گے۔ انھیں خیانت اور بے وفائی کی عادت اس لیے ہوئی کہ ان کے خیال کے مطابق ﴿ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌ ﴾ ’’ان پر جاہلوں کے حق میں کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر وہ (الْاُمِّیّٖنَ) ’’ان پڑھ عربوں‘‘ کے مال واپس نہ کریں تو انھیں گناہ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی فاسد رائے کی بنا پر انھیں انتہائی حقیر سمجھتے ہیں اور خود کو انتہائی عظمت والے تصور کرتے ہیں، حالانکہ اصل میں حقیر اور ذلیل وہ خود ہیں۔ پس انھوں نے (الْاُمِّیّٖنَ) کے مال کی حرمت کو نہ سمجھا اور اسے انھوں نے اپنے لیے جائز قرار دے لیا۔ اس طرح وہ دو گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ حرام کھانا اور حرام خوری کو حلال سمجھنا۔ یہ عقیدہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو عالم حرام اشیاء کو حلال کہتا ہے، وہ گویا لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہے، اپنی بات نہیں سناتا۔ جب کہ اللہ کا یہ حکم نہیں اور اسی کو جھوٹ کہتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں‘‘ یہ گناہ بغیر جانے بوجھے اللہ کے بارے میں باتیں بتانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔
[76] پھر اللہ نے ان کے غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی حقیقت وہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ تمھیں جاہلوں کے حق کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمھیں اس جرم کا سخت گناہ ہوگا۔ ﴿ مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى ﴾ ’’جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیز گاری کرے۔‘‘ اس عہد و قرار میں وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہے۔ اس میں اللہ کے وہ تمام حق شامل ہیں جو اس نے بندے پر واجب کیے ہیں۔ اور وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے کا دوسرے بندوں سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر عہد و پیمان سے مراد ان گناہوں سے بچنا ہے جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے بھی جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ جو شخص ان سب گناہوں سے بچتا ہے وہ متقی ہے جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے خواہ وہ (الْاُمِّیّٖنَ)(عرب ان پڑھ لوگوں) میں سے ہو یا دوسروں میں سے ہو اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیں جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں، اس نے اللہ کا وعدہ پورا نہیں کیا، اور اللہ سے نہیں ڈرا۔ لہٰذا اسے اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ اگر ان پڑھ ایفائے عہد، تقویٰ اور مالی خیانت سے پرہیز سے متصف ہوں گے تو وہی اللہ کے پیارے ہوں گے۔ وہی متقی کہلائیں گے جن کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ وہ اللہ کی مخلوق میں افضل مقام پر فائز ہوں گے۔
Page 59
3:71
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَلۡبِسُونَ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٧١
O People of the Scripture, why do you mix [i.e., confuse] the truth with falsehood and conceal the truth while you know [it]?
3:72
وَقَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ ءَامِنُواْ بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجۡهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكۡفُرُوٓاْ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٧٢
And a faction of the People of the Scripture say [to each other], "Believe in that which was revealed to the believers at the beginning of the day and reject it at its end that perhaps they will return [i.e., abandon their religion],
3:73
وَلَا تُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمۡ قُلۡ إِنَّ ٱلۡهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤۡتَىٰٓ أَحَدٞ مِّثۡلَ مَآ أُوتِيتُمۡ أَوۡ يُحَآجُّوكُمۡ عِندَ رَبِّكُمۡۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٧٣
And do not trust except those who follow your religion." Say, "Indeed, the [true] guidance is the guidance of Allāh. [Do you fear] lest someone be given [knowledge] like you were given or that they would [thereby] argue with you before your Lord?" Say, "Indeed, [all] bounty is in the hand1 of Allāh - He grants it to whom He wills. And Allāh is all-Encompassing and Wise."
1 translator’s note
- See footnote to 2:19. ↩
3:74
يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٧٤
He selects for His mercy whom He wills. And Allāh is the possessor of great bounty.
3:75
۞ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٥
And among the People of the Scripture is he who, if you entrust him with a great amount [of wealth], he will return it to you. And among them is he who, if you entrust him with a [single] coin, he will not return it to you unless you are constantly standing over him [demanding it]. That is because they say, "There is no blame upon us concerning the unlearned."1 And they speak untruth about Allāh while they know [it].
1 translator’s note
- The Jews do not consider it a sin to cheat or lie to a gentile or a pagan. ↩
3:76
بَلَىٰۚ مَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ٧٦
But yes, whoever fulfills his commitment and fears Allāh - then indeed, Allāh loves those who fear Him.
3:77
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشۡتَرُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَأَيۡمَٰنِهِمۡ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٧٧
Indeed, those who exchange the covenant of Allāh and their [own] oaths for a small price will have no share in the Hereafter, and Allāh will not speak to them or look at them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and they will have a painful punishment.