Ali 'Imran 3:8
Family of Imran · Juz 3 · Page 50
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٨
[Who say], "Our Lord, let not our hearts deviate after You have guided us and grant us from Yourself mercy. Indeed, You are the Bestower.1
1 translator’s note
- Who gives and grants continually without being asked. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:7–8
وہی ہے جس نے نازل کی آپ پر کتاب، اس کی بعض آیتیں محکم (واضح) ہیں وہی ہیں اصل کتاب اور (کچھ) دوسری متشابہ (غیر واضح) ہیں، پس لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں کجی ہے، تو وہ پیچھے لگتے ہیں انھی آیتوں کے جو متشابہ ہیں ان میں سے، واسطے تلاش کرنے فتنہ کے اور واسطے تلاش کرنے اس کی تاویل کے، حالانکہ نہیں جانتا ان کی تاویل (کوئی بھی) سوائے اللہ کے،اور وہ لوگ جو پختہ ہیں علم میں وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لائے ساتھ اس کے، (یہ) سب ہمارے رب کی طرف سے ہےاور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(7) اے ہمارے رب! نہ ٹیڑھا کر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ ہدایت دی تونے ہمیں اور عطا کرواسطے ہمارے اپنے پاس سے رحمت، بے شک توہی ہے بڑا عطا کرنے والا(8)
[7] قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿ كِتٰبٌ اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ خَبِيۡرٍ﴾(ہود:11؍1) ’’یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے‘‘ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ: 5؍50) ’’یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے‘‘ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور متشابہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو اللہ کے فرمان کے مطابق ﴿ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ ﴾ یعنی واضح مفہوم کی حامل آیات ہیں۔ جن میں نہ کوئی شبہ ہے نہ اشکال۔ ﴿ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ یعنی وہ کتاب کی اصل اور بنیادی تعلیمات ہیں۔ ہر متشابہ کو انھی کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کا اکثر حصہ ایسی ہی محکم آیات پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾ ’’اور دوسری کچھ متشابہ آیتیں ہیں‘‘ یعنی بعض افراد کے ذہنوں میں ان کا مفہوم ملتبس ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کی دلالت مجمل ہے یابعض لوگ سرسری نظر میں وہ مفہوم سمجھ بیٹھتے ہیں جو اصل میں مراد نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات واضح ہیں جو آسانی سے ہر شخص کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں۔ ان ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ کچھ آیتیں ہیں جو بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس صورت میں متشابہ کو محکم کی روشنی میں اور خفی کو جلی کی مدد سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس طریقے سے آیات ایک دوسری کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف اور تعارض معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ دو قسموں میں منقسم ہیں: ﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ ﴾ ’’پس جن کے دلوں میں کجی ہے‘‘ یعنی وہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ان کے ارادے خراب ہیں۔ گمراہی ان کا مقصود بن گئی ہے۔ ان کے دل ہدایت کی راہ سے برگشتہ ہوچکے ہیں۔ ﴿ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ﴾ ’’وہ اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں‘‘ یعنی محکم اور واضح ارشادات کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اور معاملہ کو الٹ طریقے سے لے کر محکم کو متشابہ پر محمول کرتے ہیں۔ ﴿ ابۡتِغَآءَؔ الۡفِتۡنَةِ ﴾ ’’فتنے کی طلب میں‘‘ یعنی ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جن کو یہ اپنے قول کی طرف بلاتے ہیں۔ متشابہ میں چونکہ اشتباہ موجود ہوتا ہے، اس لیے اس کے ذریعے سے فتنہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ورنہ محکم اور صریح میں فتنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو شخص حق کی پیروی کرنا چاہے اسے محکم میں واضح حق مل جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَابۡتِغَآءَؔ تَاۡوِيۡلِهٖ١ؐ ۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کی مراد کی جستجو کے لیے۔ حالانکہ اس کی حقیقی مراد کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے‘‘ اس آیت میں علماء کے دو قول ہیں۔ اکثر علمائے کرام لفظ اللہ پر وقف کرتے ہیں۔ (موجودہ ترجمہ اسی قول کے مطابق ہے) اور بعض لوگ ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ کا عطف بھی اس پر مانتے ہیں۔ (اس صورت میں یہ ترجمہ ہوگا ’’حالانکہ اس کی تفسیر کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور پختہ علم والوں کے۔‘‘ یعنی پختہ علم والے بھی جانتے ہیں۔) یہ دونوں تشریحات درست ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ اگر تاویل سے مراد کسی شے کی حقیقت اور کنہ جاننا ہو تو ﴿اِلَّا اللّٰهُ﴾ پر وقف کرنا ہی درست ہوگا۔ کیونکہ جن اشیاء کی حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ مثلاً اللہ کی صفات کی حقیقت و کیفیت، آخرت میں پیش آنے والے اوصاف کی حقیقت وغیرہ۔ ان کو تو اللہ کے سوا واقعی کوئی نہیں جانتا۔ اس کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ یہ ایسی چیز کی کوشش ہے جسے جاننا ممکن ہی نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس آیت کا کیا مطلب ہے: ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰى ﴾(طہ:20؍5) ’’رحمان عرش پر مستوی ہے‘‘ سائل نے کہا: ’’کس طرح مستوی ہے؟‘‘ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:(اَلْإِسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ، وَالْکَیْفُ مَجْہُولٌ، وَالْإِیمَانُ بِہِ وَاجِبٌ، وَالسَّوَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ) ’’إِسْتَوَاءٌ (قائم ہونا) معلوم ہے (یعنی واضح لفظ ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں) اس کی کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص ان کی کیفیت دریافت کرے تو امام مالک رحمہ اللہ کی طرح کہہ دیا جائے کہ یہ صفت تو معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔ تاہم اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا (کہ یہ صفت کس طرح ہے) بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ صفات بتائی ہیں۔ ان کی کیفیت بیان نہیں فرمائی۔ لہٰذا ہمیں اپنی حد تک آکر رک جانا چاہیے۔ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ گمراہ لوگ ان متشابہ امور کے بارے میں بے فائدہ بحث کرتے ہیں، اور اس چیز کے حصول کی ناکام کوشش کرتے ہیں جنھیں معلوم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں، کیونکہ انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پختہ کار اہل علم ان پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کی حقیقت اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح (فرمان الٰہی کو) تسلیم کرکے (تکلفات اور غلطیوں سے) محفوظ ہوجاتے ہیں۔اگر تاویل کا مطلب تفسیر اور وضاحت لیا جائے تو ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ ﴾ کا عطف لفظ اللہ پر ہوگا۔ (اس صورت میں لفظ اللہ پر وقف نہیں ہوگا، بلکہ العلم پر وقف ہوگا) اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھ کر اس کی تفسیر کرنا اور اس کے شبہات دور کرنا یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور پختہ علم والے بھی جانتے ہیں چنانچہ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ا ور اسے محکم کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ﴿ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ﴾ ’’یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘‘ یعنی محکم اور متشابہ سب اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔ اور اس کی طرف سے آنے والی چیز میں تعارض اور تناقض نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے ایک بڑے اصول کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جب انھیں کسی مجمل طورپر ذکر کیے متشابہ میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم بہرحال محکم کے مطابق ہی ہوگا، اگرچہ ہم سمجھ نہ سکے ہوں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر ایمان لانے اور تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے اور متشابہ کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ ﴾ یعنی اللہ کی نصیحت سے فیض یاب ہونے والے، اس کی نصیحت اور اس کی طرف سے آنے والے علم کو قبول کرنے والے ﴿ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ صرف وہ لوگ ہیں جو کامل عقلوں والے ہیں۔ وہی جوان کا مغز اور بنی آدم کا خلاصہ (اور بہترین حصہ) ہیں۔ نصیحت ان کی عقلوں تک پہنچتی ہے تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں معلوم ہوتی ہیں تو وہ اس پر عمل کرلیتے ہیں۔ اور انھیں (اس نصیحت کے ذریعے سے) اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں تب وہ ان سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی سمجھ مغز کے بجائے چھلکے سے مشابہت رکھتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ نہ ان سے کوئی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو نہ تنبیہ اور زجر و توبیخ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، نہ سمجھانے سے کیونکہ ان کے پاس وہ عقل ہی نہیں، جس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل ہوسکے۔
[8] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ ’’پختہ کار علما‘‘ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘ یعنی ایسا نہ ہو کہ جہالت یا عناد کی وجہ سے ہم حق سے روگردانی کریں۔ بلکہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے والے، ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا۔ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ، اور ہمیں ان (بداعمالیوں) سے محفوظ رکھ، جن میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ ﴿ وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما‘‘ یعنی ہمیں ایسی عظیم رحمت عطا فرما، جس کے ساتھ ہمیں نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے حفاظت فرمائے۔ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے‘‘ یعنی تیرے انعامات و عطیات بے حد وسیع اور تیرے احسانات بے شمار ہیں۔ تیری سخاوت سے ہر مخلوق بہرہ ور ہوتی ہے۔
Page 50
سورة آل عمران
Ali 'Imran
Family of Imran · Medinan · 200 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
3:1
الٓمٓ ١
Alif, Lām, Meem.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
3:2
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ ٢
Allāh - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Self-Sustaining.1
1 translator’s note
- See footnotes to 2:255. ↩
3:3
نَزَّلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ ٣
He has sent down upon you, [O Muḥammad], the Book in truth, confirming what was before it. And He revealed the Torah and the Gospel
3:4
مِن قَبۡلُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلۡفُرۡقَانَۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ ٤
Before, as guidance for the people. And He revealed the Criterion [i.e., the Qur’ān]. Indeed, those who disbelieve in the verses of Allāh will have a severe punishment, and Allāh is Exalted in Might, the Owner of Retribution.1
1 translator’s note
- i.e., He who restores justice by punishing those who persist in wrongdoing, fail to heed warnings and are unrepentant. ↩
3:5
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخۡفَىٰ عَلَيۡهِ شَيۡءٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٥
Indeed, from Allāh nothing is hidden in the earth nor in the heaven.
3:6
هُوَ ٱلَّذِي يُصَوِّرُكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٦
It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.
3:7
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٧
It is He who has sent down to you, [O Muḥammad], the Book; in it are verses [that are] precise - they are the foundation of the Book - and others unspecific.1 As for those in whose hearts is deviation [from truth], they will follow that of it which is unspecific, seeking discord and seeking an interpretation [suitable to them]. And no one knows its [true] interpretation except Allāh. But those firm in knowledge say, "We believe in it. All [of it] is from our Lord." And no one will be reminded except those of understanding,
1 translator’s note
- Those which are stated in such a way that they are open to more than one interpretation or whose meaning is known only to Allāh, such as the opening letters of certain sūrahs. ↩
3:8
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٨
[Who say], "Our Lord, let not our hearts deviate after You have guided us and grant us from Yourself mercy. Indeed, You are the Bestower.1
1 translator’s note
- Who gives and grants continually without being asked. ↩
3:9
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ٩
Our Lord, surely You will gather the people for a Day about which there is no doubt. Indeed, Allāh does not fail in His promise."