Ali 'Imran 3:94
Family of Imran · Juz 4 · Page 62
فَمَنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩٤
And whoever invents about Allāh untruth after that - then those are [truly] the wrongdoers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 3:93–94
تمام کھانا تھا حلال واسطے بنواسرائیل کے، مگر وہ جو حرام کر لیا تھا یعقوب نے اپنے نفس پر، پہلے اس سے کہ نازل کی جائے تورات، کہہ دیجیے! پس لاؤ تم تورات اور پڑھو اسے، اگر ہو تم سچے(93) پس جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ، اس کے بعد، تو یہی لوگ ہیں ظالم(94)
[94,93] یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کامنسوخ ہونا جائز نہیں، اس لیے انھوں نے حضرت عیسیٰuاور حضرت محمدﷺکی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں۔ ﴿اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِيۡلُ﴾ ’’سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوبuنے‘‘ ﴿عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’اپنے اوپر حرام کرلیا تھا‘‘ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے شفا عطا فرمائی تو وہ سب سے پسندیدہ غذا اپنے آپ پر حرام کرلیں گے۔ اللہ نے شفا دے دی تو مشہور قول کے مطابق انھوں نے اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ اپنے آپ پر حرام کرلیا۔ آپ کی اولاد نے بھی (آپ کے احترام میں) اس سے اجتناب کیا، یہ واقعہ تورات کے نزول سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر تورات میں یعقوبuکی حرام کردہ اشیاء کے علاوہ بعض دوسری حلال اور پاک اشیاء کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ جیسے اللہ نے فرمایا ہے:﴿فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبٰؔتٍ اُحِلَّتۡ لَهُمۡ﴾(النساء:4؍160) ’’یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاک چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ اگر یہودی اس حقیقت کا انکار کریں تو تورات پیش کرنے کا حکم دیجیے۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی ظلم و عناد کی روش پر قائم رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں، وہی ظالم ہیں‘‘ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ عناد، تکبر اور سرکشی کی بنا پر اس سے انکار کردیتا ہے۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ محمدﷺکی نبوت حق ہے۔ آپ کی اور آپ کو خبریں دینے والے کی سچائی پر طرح طرح کی واضح دلیلیں موجود ہیں، جس (اللہ) نے آپ کو وہ خبریں دیں، جن کا علم آپ کو اللہ کے بتائے بغیر نہیں ہوسکتا۔
Page 62
3:92
لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ ٩٢
Never will you attain the good [reward]1 until you spend [in the way of Allāh] from that which you love. And whatever you spend - indeed, Allāh is Knowing of it.
1 translator’s note
- Another meaning is "You will never attain righteousness." ↩
3:93
۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٣
All food was lawful to the Children of Israel except what Israel [i.e., Jacob] had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muḥammad], "So bring the Torah and recite it, if you should be truthful."
3:94
فَمَنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩٤
And whoever invents about Allāh untruth after that - then those are [truly] the wrongdoers.
3:95
قُلۡ صَدَقَ ٱللَّهُۗ فَٱتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٩٥
Say, "Allāh has told the truth. So follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of the polytheists."1
1 translator’s note
- See footnote to 3:67 ↩
3:96
إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩٦
Indeed, the first House [of worship] established for mankind was that at Bakkah [i.e., Makkah] - blessed and a guidance for the worlds.
3:97
فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ مَّقَامُ إِبۡرَٰهِيمَۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩٧
In it are clear signs [such as] the standing place of Abraham. And whoever enters it [i.e., the Ḥaram] shall be safe. And [due] to Allāh from the people is a pilgrimage to the House - for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves [i.e., refuses] - then indeed, Allāh is free from need of the worlds.1
1 translator’s note
- He has no need for His servants' worship; it is they who are in need of Him. ↩
3:98
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعۡمَلُونَ ٩٨
Say, "O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allāh while Allāh is Witness over what you do?"
3:99
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ تَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَأَنتُمۡ شُهَدَآءُۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٩٩
Say, "O People of the Scripture, why do you avert from the way of Allāh those who believe, seeking to make it [seem] deviant, while you are witnesses [to the truth]? And Allāh is not unaware of what you do."
3:100
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ كَٰفِرِينَ ١٠٠
O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.