Ar-RumJuz 21 · Page 405

Ar-Rum 30:12

The Romans · Juz 21 · Page 405

وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبۡلِسُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ١٢

And the Day the Hour appears the criminals will be in despair.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 30:11–16

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16)

[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔

[16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 405

Ar-RumJuz 21 · Page 405

30:6

وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٦

[It is] the promise of Allāh. Allāh does not fail in His promise, but most of the people do not know.

30:7

يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ ٧

They know what is apparent of the worldly life, but they, of the Hereafter, are unaware.

30:8

أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٖ مُّسَمّٗىۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآيِٕ رَبِّهِمۡ لَكَٰفِرُونَ ٨

Do they not contemplate within themselves?1 Allāh has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in the meeting with their Lord, are disbelievers.

1 translator’s note
  1. An additional meaning is "Do they not contemplate concerning themselves." ↩

30:9

أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٩

Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed [or excavated] the earth and built it up more than they [i.e., the Makkans] have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allāh would not ever have wronged them, but they were wronging themselves.

30:10

ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ ١٠

Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allāh and used to ridicule them.

30:11

ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ١١

Allāh begins creation; then He will repeat it; then to Him you will be returned.

30:12

وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبۡلِسُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ١٢

And the Day the Hour appears the criminals will be in despair.

30:13

وَلَمۡ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعَٰٓؤُاْ وَكَانُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ كَٰفِرِينَ ١٣

And there will not be for them among their [alleged] partners any intercessors, and they will [then] be disbelievers in their partners.

30:14

وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوۡمَئِذٖ يَتَفَرَّقُونَ ١٤

And the Day the Hour appears - that Day they will become separated.

30:15

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَهُمۡ فِي رَوۡضَةٖ يُحۡبَرُونَ ١٥

And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.

As-Sa'diTafsir · 30:12

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском