Ar-Rum 30:58
The Romans · Juz 21 · Page 410
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَلَئِن جِئۡتَهُم بِـَٔايَةٖ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ ٥٨
And We have certainly presented to the people in this Qur’ān from every [kind of] example. But, [O Muḥammad], if you should bring them a sign, the disbelievers will surely say, "You [believers] are but falsifiers."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 30:58–60
اور البتہ تحقیق بیان کر دی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال اور البتہ اگرلے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہو تم مگر باطل پرست (58) اسی طرح مہرلگاتا ہے اللہ دلوں پر ان لوگوں کے جو نہیں جانتے (59) پس آپ صبر کیجیے، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نہ ہلکا (بے وزن) بنا دیں آپ کو وہ لوگ جو نہیں یقین رکھتے (60)
[58، 59]﴿وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے بیان کی‘‘ اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال‘‘ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَىِٕنۡ جِئۡتَهُمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں‘‘ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴾’’تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔‘‘ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔
[60]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’پس صبر کیجیے!‘‘ اپنی دعوت الیٰ اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا، تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ انھیں معمولی نظر آتے ہیں، اس کے لیے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔
﴿وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ۠ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے بنابریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرونواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔
Page 410
30:51
وَلَئِنۡ أَرۡسَلۡنَا رِيحٗا فَرَأَوۡهُ مُصۡفَرّٗا لَّظَلُّواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ يَكۡفُرُونَ ٥١
But if We should send a [bad] wind and they saw [their crops] turned yellow, they would remain thereafter disbelievers.1
1 translator’s note
- Denying and ungrateful for the previous favors of Allāh. ↩
30:52
فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ ٥٢
So indeed, you will not make the dead hear, nor will you make the deaf hear the call when they turn their backs, retreating.
30:53
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِ ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ ٥٣
And you cannot guide the blind away from their error. You will only make hear those who believe in Our verses so they are Muslims [in submission to Allāh].
30:54
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ ٥٤
Allāh is the one who created you from weakness, then made after weakness strength, then made after strength weakness and white hair. He creates what He wills, and He is the Knowing, the Competent.
30:55
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ كَذَٰلِكَ كَانُواْ يُؤۡفَكُونَ ٥٥
And the Day the Hour appears the criminals will swear they had remained but an hour. Thus they were deluded.
30:56
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَٱلۡإِيمَٰنَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡبَعۡثِۖ فَهَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡبَعۡثِ وَلَٰكِنَّكُمۡ كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٥٦
But those who were given knowledge and faith will say, "You remained the extent of Allāh's decree until the Day of Resurrection, and this is the Day of Resurrection, but you did not used to know."1
1 translator’s note
- i.e., acknowledge the truth. ↩
30:57
فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ ٥٧
So that Day, their excuse will not benefit those who wronged, nor will they be asked to appease [Allāh].
30:58
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَلَئِن جِئۡتَهُم بِـَٔايَةٖ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ ٥٨
And We have certainly presented to the people in this Qur’ān from every [kind of] example. But, [O Muḥammad], if you should bring them a sign, the disbelievers will surely say, "You [believers] are but falsifiers."
30:59
كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٩
Thus does Allāh seal the hearts of those who do not know.1
1 translator’s note
- i.e., those who do not wish to know the truth and refuse it. ↩
30:60
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ٦٠
So be patient. Indeed, the promise of Allāh is truth. And let them not disquiet you who are not certain [in faith].