Luqman 31:5
Luqman · Juz 21 · Page 411
أُوْلَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٥
Those are on [right] guidance from their Lord, and it is those who are the successful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 31:1–5
الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔
[3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔
[5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
Page 411
سورة لقمان
Luqman
Luqman · Meccan · 34 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
31:1
الٓمٓ ١
Alif, Lām, Meem.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
31:2
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ ٢
These are verses of the wise1 Book,
1 translator’s note
- See footnote to 10:1. ↩
31:3
هُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّلۡمُحۡسِنِينَ ٣
As guidance and mercy for the doers of good
31:4
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ٤
Who establish prayer and give zakāh, and they, of the Hereafter, are certain [in faith].
31:5
أُوْلَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٥
Those are on [right] guidance from their Lord, and it is those who are the successful.
31:6
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٦
And of the people is he who buys the amusement of speech1 to mislead [others] from the way of Allāh without knowledge and who takes it [i.e., His way] in ridicule. Those will have a humiliating punishment.
1 translator’s note
- i.e., that which has no benefit. Described by different ṣaḥābah as shirk (association with Allāh), misleading stories, frivolous songs, or music but includes all which distracts or diverts one from the Qur’ān and remembrance of Allāh. ↩
31:7
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا وَلَّىٰ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا كَأَنَّ فِيٓ أُذُنَيۡهِ وَقۡرٗاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٧
And when Our verses are recited to him, he turns away arrogantly as if he had not heard them, as if there was in his ears deafness. So give him tidings of a painful punishment.
31:8
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّٰتُ ٱلنَّعِيمِ ٨
Indeed, those who believe and do righteous deeds - for them are the Gardens of Pleasure,
31:9
خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٩
Wherein they abide eternally; [it is] the promise of Allāh [which is] truth. And He is the Exalted in Might, the Wise.
31:10
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ ١٠
He created the heavens without pillars that you see and has cast into the earth firmly set mountains, lest it should shift with you, and dispersed therein from every creature. And We sent down rain from the sky and made grow therein [plants] of every noble kind.
31:11
هَٰذَا خَلۡقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ بَلِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ١١
This is the creation of Allāh. So show Me what those other than Him have created. Rather, the wrongdoers are in clear error.