As-SajdahJuz 21 · Page 416

As-Sajdah 32:12

The Prostration · Juz 21 · Page 416

وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلۡمُجۡرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ١٢

If you could but see when the criminals are hanging their heads before their Lord, [saying], "Our Lord, we have seen and heard, so return us [to the world]; we will work righteousness. Indeed, we are [now] certain."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 32:12–14

اور اگر آپ دیکھیں، جب مجرم لوگ جھکائے ہوئے ہوں گے سر اپنے نزدیک اپنے رب کے (تو کہیں گے:) اے ہمارے رب! دیکھ لیا ہم نے اور سن لیا ہم نے، پس واپس بھیج ہمیں، کریں ہم نیک عمل، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں (12) اور اگر ہم چاہتے تو دے دیتے ہم ہر نفس کو ہدایت اس کی، لیکن ثابت ہو گیا قول (وعدہ) میری طرف سے کہ البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے (13) پس چکھو تم (عذاب) بوجہ اس کےجوبھلائے رکھا تم نے ملاقات کو اپنے اس دن کی، بے شک (آج) بھلا دیا ہم نے تم کو اور چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے (14)

[12] اللہ تبارک وتعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد، اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں، جبکہ گناہ گار‘‘ جنھوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا ﴿نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ خشوع و خضوع کے ساتھ سرنگوں ہو کر، اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے، واپس لوٹائے جانے کی درخواست کر کے عرض کریں گے:﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔‘‘ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ ﴿فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آ گیا ہے۔ تو آپ بہت برا معاملہ، ہولناک حالات، خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے، کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔

[13] اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰؔىهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّيۡ ﴾ ’’لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔‘‘ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔‘‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔

[14]﴿فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔‘‘ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ﴾ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 416

As-SajdahJuz 21 · Page 416

32:12

وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلۡمُجۡرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ١٢

If you could but see when the criminals are hanging their heads before their Lord, [saying], "Our Lord, we have seen and heard, so return us [to the world]; we will work righteousness. Indeed, we are [now] certain."

32:13

وَلَوۡ شِئۡنَا لَأٓتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدَىٰهَا وَلَٰكِنۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ مِنِّي لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ ١٣

And if We had willed, We could have given every soul its guidance, but the word1 from Me will come into effect [that] "I will surely fill Hell with jinn and people all together.

1 translator’s note
  1. Deserved by the evildoers. ↩

32:14

فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَآ إِنَّا نَسِينَٰكُمۡۖ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٤

So taste [punishment] because you forgot the meeting of this, your Day; indeed, We have [accordingly] forgotten you. And taste the punishment of eternity for what you used to do."

32:15

إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩ ١٥

Only those believe in Our verses who, when they are reminded by them, fall down in prostration and exalt [Allāh] with praise of their Lord, and they are not arrogant.

32:16

تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ١٦

Their sides part [i.e., they arise] from [their] beds; they supplicate their Lord in fear and aspiration, and from what We have provided them, they spend.1

1 translator’s note
  1. In the cause of Allāh. ↩

32:17

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٧

And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes [i.e., satisfaction] as reward for what they used to do.

32:18

أَفَمَن كَانَ مُؤۡمِنٗا كَمَن كَانَ فَاسِقٗاۚ لَّا يَسۡتَوُۥنَ ١٨

Then is one who was a believer like one who was defiantly disobedient? They are not equal.

32:19

أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ جَنَّٰتُ ٱلۡمَأۡوَىٰ نُزُلَۢا بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٩

As for those who believed and did righteous deeds, for them will be the Gardens of Refuge as accommodation for what they used to do.

32:20

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ فَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمۡ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢٠

But as for those who defiantly disobeyed, their refuge is the Fire. Every time they wish to emerge from it, they will be returned to it while it is said to them, "Taste the punishment of the Fire which you used to deny."

As-Sa'diTafsir · 32:12

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском