As-Sajdah 32:5
The Prostration · Juz 21 · Page 415
يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥٓ أَلۡفَ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٥
He arranges [each] matter from the heaven to the earth; then it will ascend to Him in a Day, the extent of which is a thousand years of those which you count.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 32:4–9
اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9)
[4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔
[5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
[6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔
[7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔
[8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔
[9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔
Page 415
سورة السجدة
As-Sajdah
The Prostration · Meccan · 30 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
32:1
الٓمٓ ١
Alif, Lām, Meem.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
32:2
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢
[This is] the revelation of the Book about which there is no doubt from the Lord of the worlds.
32:3
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۚ بَلۡ هُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ ٣
Or do they say, "He invented it"? Rather, it is the truth from your Lord, [O Muḥammad], that you may warn a people to whom no warner has come before you [so] perhaps they will be guided.
32:4
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا شَفِيعٍۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ٤
It is Allāh who created the heavens and the earth and whatever is between them in six days; then He established Himself above the Throne.1 You have not besides Him any protector or any intercessor; so will you not be reminded?
1 translator’s note
- See footnotes to 2:19 and 7:54. ↩
32:5
يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥٓ أَلۡفَ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٥
He arranges [each] matter from the heaven to the earth; then it will ascend to Him in a Day, the extent of which is a thousand years of those which you count.
32:6
ذَٰلِكَ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٦
That is the Knower of the unseen and the witnessed, the Exalted in Might, the Merciful,
32:7
ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥۖ وَبَدَأَ خَلۡقَ ٱلۡإِنسَٰنِ مِن طِينٖ ٧
Who perfected everything which He created and began the creation of man from clay.
32:8
ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ ٨
Then He made his posterity out of the extract of a liquid disdained.
32:9
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ ٩
Then He proportioned him and breathed into him from His [created] soul1 and made for you hearing and vision and hearts [i.e., intellect]; little are you grateful.
1 translator’s note
- i.e., element of life. See footnote to 15:29. ↩
32:10
وَقَالُوٓاْ أَءِذَا ضَلَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدِۭۚ بَلۡ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كَٰفِرُونَ ١٠
And they say, "When we are lost [i.e., disintegrated] within the earth, will we indeed be [recreated] in a new creation?" Rather, they are, in the meeting with their Lord, disbelievers.
32:11
۞ قُلۡ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلۡمَوۡتِ ٱلَّذِي وُكِّلَ بِكُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ ١١
Say, "The angel of death who has been entrusted with you will take you. Then to your Lord you will be returned."