Al-AhzabJuz 21 · Page 419

Al-Ahzab 33:11

The Combined Forces · Juz 21 · Page 419

هُنَالِكَ ٱبۡتُلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَزُلۡزِلُواْ زِلۡزَالٗا شَدِيدٗا ١١

There the believers were tested and shaken with a severe shaking.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 33:9–11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11)

[11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘

یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 419

Al-AhzabJuz 21 · Page 419

33:7

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِيثَٰقَهُمۡ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٖ وَإِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۖ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٧

And [mention, O Muḥammad], when We took from the prophets their covenant and from you and from Noah and Abraham and Moses and Jesus, the son of Mary; and We took from them a solemn covenant

33:8

لِّيَسۡـَٔلَ ٱلصَّٰدِقِينَ عَن صِدۡقِهِمۡۚ وَأَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا ٨

That He may question the truthful about their truth.1 And He has prepared for the disbelievers a painful punishment.

1 translator’s note
  1. i.e., that He may ask the prophets what they conveyed to their people and what response they received. "The truthful" may also refer to those who believed in the message conveyed by the prophets and imparted it to others. ↩

33:9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا ٩

O you who have believed, remember the favor of Allāh upon you when armies came to [attack] you and We sent upon them a wind and armies [of angels] you did not see. And ever is Allāh, of what you do, Seeing.

33:10

إِذۡ جَآءُوكُم مِّن فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ أَسۡفَلَ مِنكُمۡ وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ ١٠

[Remember] when they came at you from above you and from below you, and when eyes shifted [in fear], and hearts reached the throats, and you assumed about Allāh [various] assumptions.

33:11

هُنَالِكَ ٱبۡتُلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَزُلۡزِلُواْ زِلۡزَالٗا شَدِيدٗا ١١

There the believers were tested and shaken with a severe shaking.

33:12

وَإِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورٗا ١٢

And [remember] when the hypocrites and those in whose hearts is disease said, "Allāh and His Messenger did not promise us except delusion,"

33:13

وَإِذۡ قَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ يَٰٓأَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَٱرۡجِعُواْۚ وَيَسۡتَـٔۡذِنُ فَرِيقٞ مِّنۡهُمُ ٱلنَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوۡرَةٞ وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارٗا ١٣

And when a faction of them said, "O people of Yathrib,1 there is no stability for you [here], so return [home]." And a party of them asked permission of the Prophet, saying, "Indeed, our houses are exposed [i.e., unprotected]," while they were not exposed. They did not intend except to flee.

1 translator’s note
  1. The name by which al-Madīnah was known before the arrival of the Prophet (ﷺ). ↩

33:14

وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِم مِّنۡ أَقۡطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُواْ ٱلۡفِتۡنَةَ لَأٓتَوۡهَا وَمَا تَلَبَّثُواْ بِهَآ إِلَّا يَسِيرٗا ١٤

And if they had been entered upon from all its [surrounding] regions and fitnah [i.e., disbelief] had been demanded of them, they would have done it and not hesitated over it except briefly.

33:15

وَلَقَدۡ كَانُواْ عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ مِن قَبۡلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلۡأَدۡبَٰرَۚ وَكَانَ عَهۡدُ ٱللَّهِ مَسۡـُٔولٗا ١٥

And they had already promised Allāh before not to turn their backs [i.e., flee]. And ever is the promise to Allāh [that about which one will be] questioned.

As-Sa'diTafsir · 33:11

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском