Al-Ahzab 33:21
The Combined Forces · Juz 21 · Page 420
لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا ٢١
There has certainly been for you in the Messenger of Allāh an excellent pattern1 for anyone whose hope is in Allāh and the Last Day and [who] remembers Allāh often.
1 translator’s note
- An example to be followed. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 33:13–27
اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27)
[13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔
[14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔
[15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
[16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔
Page 420
33:16
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلۡفِرَارُ إِن فَرَرۡتُم مِّنَ ٱلۡمَوۡتِ أَوِ ٱلۡقَتۡلِ وَإِذٗا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٦
Say, [O Muḥammad], "Never will fleeing benefit you if you should flee from death or killing; and then [if you did], you would not be given enjoyment [of life] except for a little."
33:17
قُلۡ مَن ذَا ٱلَّذِي يَعۡصِمُكُم مِّنَ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ سُوٓءًا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةٗۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ١٧
Say, "Who is it that can protect you from Allāh1 if He intends for you an ill or intends for you a mercy?" And they will not find for themselves besides Allāh any protector or any helper.
1 translator’s note
- i.e., prevent the will of Allāh from being carried out. ↩
33:18
۞ قَدۡ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ ٱلۡمُعَوِّقِينَ مِنكُمۡ وَٱلۡقَآئِلِينَ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ هَلُمَّ إِلَيۡنَاۖ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلۡبَأۡسَ إِلَّا قَلِيلًا ١٨
Already Allāh knows the hinderers1 among you and those [hypocrites] who say to their brothers, "Come to us,"2 and do not go to battle, except for a few,3
33:19
أَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلۡخَوۡفُ رَأَيۡتَهُمۡ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ تَدُورُ أَعۡيُنُهُمۡ كَٱلَّذِي يُغۡشَىٰ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلۡخَوۡفُ سَلَقُوكُم بِأَلۡسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلۡخَيۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَمۡ يُؤۡمِنُواْ فَأَحۡبَطَ ٱللَّهُ أَعۡمَٰلَهُمۡۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٗا ١٩
Indisposed1 toward you. And when fear comes, you see them looking at you, their eyes revolving like one being overcome by death. But when fear departs, they lash you with sharp tongues, indisposed toward [any] good. Those have not believed, so Allāh has rendered their deeds worthless, and ever is that, for Allāh, easy.
1 translator’s note
- Literally, "stingy," i.e., unwilling to offer any help. ↩
33:20
يَحۡسَبُونَ ٱلۡأَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُواْۖ وَإِن يَأۡتِ ٱلۡأَحۡزَابُ يَوَدُّواْ لَوۡ أَنَّهُم بَادُونَ فِي ٱلۡأَعۡرَابِ يَسۡـَٔلُونَ عَنۡ أَنۢبَآئِكُمۡۖ وَلَوۡ كَانُواْ فِيكُم مَّا قَٰتَلُوٓاْ إِلَّا قَلِيلٗا ٢٠
They think the companies have not [yet] withdrawn.1 And if the companies should come [again], they would wish they were in the desert among the bedouins, inquiring [from afar] about your news. And if they should be among you, they would not fight except for a little.
1 translator’s note
- In their excessive fear the cowardly hypocrites could not believe the enemy forces had been defeated. ↩
33:21
لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا ٢١
There has certainly been for you in the Messenger of Allāh an excellent pattern1 for anyone whose hope is in Allāh and the Last Day and [who] remembers Allāh often.
1 translator’s note
- An example to be followed. ↩
33:22
وَلَمَّا رَءَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡأَحۡزَابَ قَالُواْ هَٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥۚ وَمَا زَادَهُمۡ إِلَّآ إِيمَٰنٗا وَتَسۡلِيمٗا ٢٢
And when the believers saw the companies, they said, "This is what Allāh and His Messenger had promised us, and Allāh and His Messenger spoke the truth." And it increased them only in faith and acceptance.