Al-Ahzab 33:51
The Combined Forces · Juz 22 · Page 425
۞ تُرۡجِي مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُـٔۡوِيٓ إِلَيۡكَ مَن تَشَآءُۖ وَمَنِ ٱبۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَآ ءَاتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمٗا ٥١
You, [O Muḥammad], may put aside whom you will of them1 or take to yourself whom you will. And any that you desire of those [wives] from whom you had [temporarily] separated - there is no blame upon you [in returning her]. That is more suitable that they should be content and not grieve and that they should be satisfied with what you have given them - all of them. And Allāh knows what is in your hearts. And ever is Allāh Knowing and Forbearing.
1 translator’s note
- Those mentioned in the previous verse as being lawful to the Prophet (ﷺ) or his wives to which he was married. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 33:51
موقوف کر دیں آپ (باری) جس کی چاہیں، ان میں سے اور جگہ دیں اپنے پاس جس کو چاہیں، اور جسے آپ چاہیں ان میں سے جنھیں آپ نے علیحدہ کر دیا تھا تو کوئی گناہ نہیں آپ پر، یہ (حکمِ تخییر) زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ ٹھنڈی ہوں آنکھیں ان کی اور نہ وہ غمگین ہوں اورراضی ہوں وہ اس پر جودیں ان کوآپ سب کی سب، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، نہایت بردبار(51)
[51] نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ پر رحمت اور آپ کے لیے وسعت ہے کہ آپ کو اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کی تقسیم کے ترک کرنے کو مباح فرمایا۔ اگر آپ ان کی باریاں مقرر کرتے ہیں تو یہ آپ کی نوازش ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان ہر چیز تقسیم کر رکھی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے اور جو میرے بس میں نہیں (اے اللہ!) اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔‘‘ (سنن أبي داود، النکاح، باب في القسم بین النساء، ح: 2134 امام البانیa نے اس حدیث کے مرسل ہونے کو راحج قرار دیتےہوئے اسے ضعیف کہا ہے لیکن اس کا پہلا جملہ (یقسم بیننا فیعدل) دوسری حسن حدیث سے ثابت ہے۔ اور دوسرا اپنی معنی و مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ جبکہ حماد بن سمہ نے اس حدیث کو موصولا بیان کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: الإرواء، 7؍81 حدیث نمبر 2018) یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿تُرۡجِيۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡهُنَّ ﴾ اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں، اس کو اپنے پاس بلائیں نہ اس کے پاس رات بسر کریں۔ ﴿وَتُــــٔۡوِيۡۤ اِلَيۡكَ مَنۡ تَشَآءُ ﴾اور جس کو چاہیں اپنے پاس بلا ئیں اور اس کے ہاں رات بسر کریں۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود یہ امر متعین نہیں ﴿مَنِ ابۡتَغَيۡتَ ﴾ جس کو چاہو اپنے پاس بلا لو۔ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَ ﴾ ’’تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘ معنی یہ ہے کہ آپ کو مکمل اختیار ہے۔بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ یہ حکم ان عورتوں کے بارے میں خاص ہے جو اپنے آپ کو ہبہ کریں کہ آپ کو اختیار ہے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں بلا کر اپنے پاس رکھیں، یعنی اگر آپ چاہیں تو اس عورت کو قبول کر لیں جس نے خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا اور اگر آپ چاہیں تو قبول نہ کریں۔ واللّٰہ أعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت واضح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی یہ وسعت، تمام معاملے کا آپ کے اختیار میں ہونا اور اس معاملے میں آپ کا ان عورتوں پر کوئی عنایت اور نوازش کرنا ﴿اَدۡنٰۤى اَنۡ تَقَرَّ اَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَاۤ اٰتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ﴾ ’’اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم ناک نہ ہوں اور آپ جو کچھ ان کو دیں اسے لے کر وہ سب خوش رہیں۔‘‘ کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ آپ نے کسی واجب کو ترک کیا ہے نہ کسی واجب حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اسے اللہ جانتا ہے۔‘‘ حقوق واجبہ و مستحبہ کی ادائیگی اور حقوق میں مزاحمت کے وقت دلوں میں جو خیال گزرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ اس لیے اے اللہ کے رسول! آپ کے لیے یہ وسعت مشروع کی گئی ہے تاکہ آپ کی ازواج کا دل مطمئن رہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَلِيۡمًا ﴾ اوراللہ تعالیٰ وسیع علم اور کثیر حلم والا ہے۔ یہ اس کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے وہ چیز مشروع کی ہے جو تمھارے معاملات کے لیے درست اور تمھارے اجر میں اضافہ کرنے کی باعث ہے اور یہ اس کا حلم ہے کہ تم سے جو کوتاہیاں صادر ہوئیں اور تمھارے دلوں نے جس برائی پر اصرار کیا، اس نے اس پر تمھاری گرفت نہیں فرمائی۔
Page 425
33:51
۞ تُرۡجِي مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُـٔۡوِيٓ إِلَيۡكَ مَن تَشَآءُۖ وَمَنِ ٱبۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَآ ءَاتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمٗا ٥١
You, [O Muḥammad], may put aside whom you will of them1 or take to yourself whom you will. And any that you desire of those [wives] from whom you had [temporarily] separated - there is no blame upon you [in returning her]. That is more suitable that they should be content and not grieve and that they should be satisfied with what you have given them - all of them. And Allāh knows what is in your hearts. And ever is Allāh Knowing and Forbearing.
1 translator’s note
- Those mentioned in the previous verse as being lawful to the Prophet (ﷺ) or his wives to which he was married. ↩
33:52
لَّا يَحِلُّ لَكَ ٱلنِّسَآءُ مِنۢ بَعۡدُ وَلَآ أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ أَزۡوَٰجٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ رَّقِيبٗا ٥٢
Not lawful to you, [O Muḥammad], are [any additional] women after [this], nor [is it] for you to exchange them for [other] wives, even if their beauty were to please you, except what your right hand possesses. And ever is Allāh, over all things, an Observer.1
1 translator’s note
- See footnote to verse 4:1. ↩
33:53
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِيِّ إِلَّآ أَن يُؤۡذَنَ لَكُمۡ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيۡرَ نَٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَٰكِنۡ إِذَا دُعِيتُمۡ فَٱدۡخُلُواْ فَإِذَا طَعِمۡتُمۡ فَٱنتَشِرُواْ وَلَا مُسۡتَـٔۡنِسِينَ لِحَدِيثٍۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِي ٱلنَّبِيَّ فَيَسۡتَحۡيِۦ مِنكُمۡۖ وَٱللَّهُ لَا يَسۡتَحۡيِۦ مِنَ ٱلۡحَقِّۚ وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ذَٰلِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ وَمَا كَانَ لَكُمۡ أَن تُؤۡذُواْ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓاْ أَزۡوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦٓ أَبَدًاۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ٥٣
O you who have believed, do not enter the houses of the Prophet except when you are permitted for a meal, without awaiting its readiness. But when you are invited, then enter; and when you have eaten, disperse without seeking to remain for conversation. Indeed, that [behavior] was troubling the Prophet, and he is shy of [dismissing] you. But Allāh is not shy of the truth. And when you ask [his wives] for something, ask them from behind a partition. That is purer for your hearts and their hearts. And it is not [conceivable or lawful] for you to harm the Messenger of Allāh or to marry his wives after him, ever. Indeed, that would be in the sight of Allāh an enormity.
33:54
إِن تُبۡدُواْ شَيۡـًٔا أَوۡ تُخۡفُوهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ٥٤
Whether you reveal a thing or conceal it, indeed Allāh is ever, of all things, Knowing.