Al-Ahzab 33:55
The Combined Forces · Juz 22 · Page 426
لَّا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ فِيٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدًا ٥٥
There is no blame upon them [i.e., women] concerning their fathers or their sons or their brothers or their brothers' sons or their sisters' sons or their women or those their right hands possess [i.e., slaves].1 And fear Allāh. Indeed Allāh is ever, over all things, Witness.
1 translator’s note
- It is permissible for a woman to appear before these people without complete covering and to be alone with them. The brothers of both parents (uncles) are included as "fathers" or "parents," according to ḥadīth. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 33:55
نہیں گناہ ان عورتوں پراپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان کے جن کے مالک ہوئے دائیں ہاتھ ان کے اور ڈرو تم(سب) اللہ سے، بے شک اللہ ہے اوپر ہر چیز کے گواہ(55)
[55] جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ازواج مطہرات سے اگر کوئی چیز طلب کی جائے تو پردے کے پیچھے سے طلب کی جائے تو لفظ عام استعمال کیا جس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس حکم میں سے ان محرم اقارب کو مستثنیٰ قرار دیا جائے جو یہاں مذکور ہیں کہ جن سے پردہ نہ کرنے میں ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ ﴾ ’’ان پر کوئی حرج نہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے چچاؤ ں اور ماموؤ ں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جب خالاؤں اور پھوپھیوں پر بھتیجوں اور بھانجوں سے پردہ کرنا واجب نہیں تو چچا اور ماموں سے پردہ کرنا بدرجہ اولیٰ واجب نہیں۔ نیز ایک دوسری آیت کا منطوق، جس میں نہایت صراحت کے ساتھ چچا اور ماموں کا ذکر ہے، اس آیت کریمہ کے مفہوم پر مقدم ہے۔ ﴿وَلَا نِسَآىِٕهِنَّ ﴾ یعنی عورتوں پر دوسری عورتوں سے پردہ نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو دین میں ان کی ہم جنس ہیں، تو آیت کریمہ کے اس جملہ کی رو سے کافر عورتیں نکل جاتیں ہیں۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد جنس عورت ہے، تب معنیٰ یہ ہو گا کہ عورت عورت سے پردہ نہ کرے۔ ﴿وَلَا مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ﴾ ’’اور نہ ان میں کوئی گناہ ہے جن کی وہ مالک ہیں۔‘‘ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک غلام پورے کا پورا ان کی غلامی میں ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات سے حرج اور مضائقہ کو دور کر دیا ہے، اس لیے اس بارے میں اور دیگر امور میں التزام تقویٰ کی شرط عائد کی ہے، نیز یہ کہ اس میں کسی حرمت شرعی کا ارتکاب نہ ہو، چنانچہ فرمایا:﴿وَاتَّقِيۡنَ اللّٰهَ ﴾ یعنی اپنے تمام احوال میں تقویٰ کو کام میں لاؤ ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری وباطنی اعمال کو دیکھ رہا ہے، ان کے تمام اقوال کو سن رہا ہے اور ان کی تمام حرکات کا مشاہدہ کر رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے تمام اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
Page 426
33:55
لَّا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ فِيٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدًا ٥٥
There is no blame upon them [i.e., women] concerning their fathers or their sons or their brothers or their brothers' sons or their sisters' sons or their women or those their right hands possess [i.e., slaves].1 And fear Allāh. Indeed Allāh is ever, over all things, Witness.
1 translator’s note
- It is permissible for a woman to appear before these people without complete covering and to be alone with them. The brothers of both parents (uncles) are included as "fathers" or "parents," according to ḥadīth. ↩
33:56
إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا ٥٦
Indeed, Allāh confers blessing upon the Prophet, and His angels [ask Him to do so]. O you who have believed, ask [Allāh to confer] blessing upon him and ask [Allāh to grant him] peace.
33:57
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا ٥٧
Indeed, those who abuse Allāh and His Messenger - Allāh has cursed them in this world and the Hereafter and prepared for them a humiliating punishment.
33:58
وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ٥٨
And those who harm believing men and believing women for [something] other than what they have earned [i.e., deserved] have certainly borne upon themselves a slander and manifest sin.
33:59
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٥٩
O Prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments.1 That is more suitable that they will be known2 and not be abused. And ever is Allāh Forgiving and Merciful.3
3 translator’s notes
33:60
۞ لَّئِن لَّمۡ يَنتَهِ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡمُرۡجِفُونَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلٗا ٦٠
If the hypocrites and those in whose hearts is disease1 and those who spread rumors in al-Madīnah do not cease, We will surely incite you against them; then they will not remain your neighbors therein except for a little,
1 translator’s note
- Referring here to those who commit adultery or fornication. ↩
33:61
مَّلۡعُونِينَۖ أَيۡنَمَا ثُقِفُوٓاْ أُخِذُواْ وَقُتِّلُواْ تَقۡتِيلٗا ٦١
Accursed wherever they are found, [being] seized and massacred completely.
33:62
سُنَّةَ ٱللَّهِ فِي ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلُۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا ٦٢
[This is] the established way of Allāh with those who passed on before; and you will not find in the way of Allāh any change.